اور نفرت ہار گئی۔

0
212

بھارت کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی شکست کے بعد ملک کے اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر اپوزیشن کی جیت اور بی جے پی کی ہار کے تجزیے کیے جا رہے ہیں۔
ضمنی انتخابات میں سب سے اہم اتر پردیش کا کیرانہ پارلیمانی حلقہ تھا جہاں سے 2014 کے انتخابات میں بی جے پی کے ایک سینئیر رہنما اور آر ایس ایس کے ایک قابل نظریہ ساز حکم سنگھ پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
اس حلقے میں تقریباً 70 فی صد آبادی کے ساتھ ہندوؤں کی غالب اکثریت ہے۔ یہاں مسلمانوں کی آبادی 30 فیصد کے قریب ہے جو کہ دوسری جگہوں سے عموماً زیادہ ہے اس لیے اسے مسلمانوں کے غلبے والا حلقہ کہا جاتا ہے۔

حکم سنگھ کے ناگہانی انتقال سے یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔ بی جے پی کو امید تھی ضمنی انتخات میں بھی اس کے امیدوار کو ہمدردی کی بنیاد پر بھی ووٹ ملیں۔ پارٹی نے مزہبی خطوط پر ووٹروں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسے اس حد تک کامیابی نہیں مل سکی کہ وہ جیت جائے۔
اتر پردیش کی 20 کروڑ کی آبادی میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 19 فی صد ہے لیکن غالباً جمہوری انڈیا کی تاریخ میں 2014 کا پارلیمانی انتخاب پہلا ایسا انتخاب تھا جس میں یاست کے عوام نے ایک بھی مسلم امیدوار کو پارلیمنٹ کے لیے منتخب نہیں کیا۔
کیرانہ میں بی جے پی کے خلاف اپوزیشن کی تبسم حسن کی جیت اس لحاظ سے انتہائی اہم ہے کہ مذہبی نفرتوں کی سیاست کے اس دور میں عوام نے نفرتوں کی سیاست کو شکست دی ہے۔
یہاں اپوزیشن نے متحد ہو کر انتخاب لڑا تھا اور وہ کامیاب ہوئی۔ گورکھپور اور پھولپور کے بعد کیرانہ تیسرا ایسا انتخاب تھا جہاں حزب اختلاف نے متحد ہو کر بی جے پی کو شکست دی ہے۔ کرناٹک کے حالیہ انتخاب کے بعد کانگریس بھی اب یہ سمجھ چکی ہے کہ بی جے پی کو وہ تن تنہا شکست نہیں دے سکتی۔
پارلیمانی انتخابات میں ایک برس سے کم وقت بچا ہے لیکن بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے عوامی رابطہ مہم کے ذریعے انتخابی مہم کا اغاو کر دیا ہے۔
بی جے پی کی عوامی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور پورے ملک میں غریب عوام بالخصوص کسانوں میں مودی حکومت کے خلاف بے چینی پائی جاتی ہے۔ بے جے پی آنے والے دنوں میں مشکلیں دیکھ رہی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں اگر شمالی انڈیا میں میں متحد ہو گئیں تو بی جے پی کے لیے آئندہ انتخاب میں اکثریت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
کانگریس اگرچہ اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن وہ پاللمیانی سیٹوں کے اعتبار سے ملک کی دو بڑی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں کافی کمزور ہو چکی ہے۔ بنگال میں بی جے پی اس کی جگہ لے رہی ہے۔ اڑیسہ میں بھی بی جے پی تیزی سے آگے آ رہی ہے اور حکمراں پارٹی کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔

کرناٹک کے حالیہ انتخاب کے بعد کانگریس بھی اب یہ سمجھ چکی ہے کہ بی جے پی کو وہ تن تنہا شکست نہیں دے سکتی
آئندہ چند مہینوں میں مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ میں اسمبلی انتخات ہونے والے ہیں۔ ان تینوں ریاستوں میں کانگریس کے امکانات بہت اچھے ہیں۔ اگر وہ یہاں موثر طریقے سے جیتتی ہے تو اس کی سمٹتی ہوئی حیثیت بہت بہتر ہو جائے گی اور وہ علاقائی جماعتوں سے اتحاد ایک مضبوط فریق کے طور پر اور اپنی شرائط پر کر سکے گی۔ اپوزیشن میں اتحاد کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
ملک بہت جلد انتخابی ماحول کی گرفت میں ہو گا۔ وزیراعظم نریندر مودی کے مقابل اپوزیشن کا وزیر اعظم کا امیدوار کون ہو گا یہ بتا پانا مشکل ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ کانگریس بھی اپنی نسبتًا کمزور صورتحال اور حزب اختلاف کے اتحاد کے لیے راہل گاندھی کو وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر نہیں پیش کرے گی۔
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اتفاق رائے کے لیے حزب اختلاف کی جیت کی صورت میں راج موہن گاندھی اور شرد یادو جیسے رہنماؤں کو ملک کی قیادت کا موقع مل سکتا ہے۔ آئندہ پارلیمانی انتخابات انتہائی دلچسپ ہونے کی توقع ہے.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here