خنجراب پاس۔یہ نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا۔رمضان رفیق

0
541

آج جب ہنزہ سے خنجراب پاس دیکھنے نکلے تھے تو دل میں خیال تھا کہ پاک چین بارڈر کے ایک محراب کے ساتھ ایک تصویر کے علاوہ اور کچھ ہاتھ نہیں آنے والا، دو چار کلومیٹر ہی چلے تھے، ایک بورڈ پر نظر پڑی جس پر لکھا ہوا تھا ہنزہ کی مقدس چٹانیں، گاڑی وہیں رکوائی گئی۔

یہاں پر چٹان نمبر تین پر گپتن اسکرپٹ میں ایک ایسے حکمران کی کہانی لکھی ہوئی ہے جس نے پانچویں صدی عیسوی میں اُس وقت کے ہنزہ کے حکمران کو شکست دی تھی اور اِس علاقے میں بدھ مت کی داغ بیل ڈالی تھی۔ ساتھ ہی چٹان نمبر دو پر آئی بیکس اور بکریوں کی تصاویر کو کندہ کیا گیا ہے۔

اِس جگہ سے باہر نگاہ اُٹھا کر دیکھا تو لیڈی فنگر کہلائی جانے والی چوٹی پر دھوپ کا خیرہ کن نظارہ دیکھنے کو ملا۔ اِس کے اردگرد التر ون اور التر ٹو کی پہاڑی چوٹیوں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اِن پہاڑیوں کے نام بتانے سے آپ کو میری اِس علاقہ شناسی کا وہم ہونے لگے، تو ایسا ہرگز مت سوچیے، کیونکہ یہ سب باتیں تو ہمارے ٹؤر گائیڈ ریاض صاحب نے بتائی تھیں۔

اِس اسٹاپ سے اگلا اسٹاپ پسو کونز کا ہے، لیکن احباب بضد ہیں کہ پہلے عطا آباد جھیل پر کچھ دیر رُکا جائے۔ چند سال پہلے ایک لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بننے والی اس جھیل کو پاکستان جیسے ملک کے لیے ایک قدرتی تحفہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ وسیع و عریض رقبے پر محیط نیلگوں پانی والی یہ دلکش جھیل خوبصورتی کے جوبن پر ہے، جسے ابھی ہمارے روایتی سیاحوں نے سیف الملوک کی طرح استعمال نہیں کیا۔

جھیل کنارے لکڑی کی دو تین بڑی کشتیاں اور موٹر سے چلنے والی کئی طرز کی فینسی کشتیاں سیاحوں کی دلچسپی کا سبب بن سکتی ہیں۔ اِس جھیل کی خوبصورتی اِس وادی کے دامن میں ایسا خوبصورت نیلگوں رنگ ہے جو دیکھتے ہی آنکھ کو بھلا لگتا ہے۔ ٹؤر گائیڈ کا مؤقف تھا کہ یہ جھیل واپسی پر دیکھی جائے، لیکن ایک چھوٹے سے فوٹو بریک کے لیے ایک چھوٹی سی بریک پر کسی نہ کسی طرح اتفاق ہو ہی گیا۔

واہ جیسا سنا تھا اُس سے بڑھ کر پایا، ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان کی پریاں اب ناران کی وادیوں کو چھوڑ کر شاہراہِ ریشم کے دامن میں بسنے آگئی ہوں۔ اِس خوش کن نظارے پر بس ایک اچٹتی نگاہ ڈال کر ہم آگے پسو کونز کی طرف بڑھ آئے۔ ویسے تو یہ کونز دور سے ہی اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگتی ہیں لیکن اِن کے جلوے اِن کے ویو پوائنٹ سے زیادہ اچھے نظر آتے ہیں۔ اِس سے پہلے نانگا پربت اور راکا پوشی کے ویو پوائنٹس کا تجربہ کچھ زیادہ اچھا نہ لگا تھا کیونکہ جب ہم اُن مذکورہ ویو پوائنٹس پر آئے تھے تو سورج کی روشنی کی سمت کچھ ایسی تھی جو اچھی تصاویر کے راستے میں ایک رکاوٹ تھی، لیکن پسو کونز کا ویو پوائنٹ کونز اور پسو گلیشئیر کی ایک دلکش تصویر دکھا رہا تھا۔

لوگ کئی دفعہ پوچھتے ہیں کہ آپ پہاڑوں کی طرف جارہے ہیں وہاں پہاڑوں کے سوا کیا ہے؟ میں اُن سے کہتا ہوں کہ جیسے ہر انسان کی شکل و صورت ایک دوسرے سے جدا ہے ویسے ہی یہ پہاڑ ایک دوسرے سے مختلف رنگ رکھتے ہیں۔ اِن کی شکل و صورت کے فرق کی دلکشی ڈھونڈنے کو ایک سے زائد سفر درکار ہیں، پھر یہ پتھر آپ سے بات کرنے لگتے ہیں، جیسے پروین شاکر نے کہا تھا کہ، ‘حُسن کے سمجھنے کو اک عمر چاہیے جاناں،’ بس ایسے ہی اِن نظاروں سے لطف لینے کو کچھ وقت درکار ہوا کرتا ہے، بس ایک دفعہ یہ ذائقہ آنکھوں کو لگ جائے تو آدمی کسی صورت اِن سے دور نہیں رہ سکتا۔ پسو کونز بھی ایسے ہی دل کو اور گداز کرتی تھی، ہم نے کچھ وقت اِن خوبصورت پہاڑیوں سے نگاہوں کو آسودہ کیا اور پھر آگے چل نکلے۔

ہمارے ایک ہمسفر نے کہا کہ کہنے کو تو یہ سی پیک روٹ ہے لیکن چینی یا دیگر ٹرک بہت زیادہ نظر نہیں آ رہے، ابھی ایسی گفتگو کسی منطقی نتیجے تک نہ پہنچی تھی کہ ہم ‘سوست’ نامی ایک مقام تک آپہنچے۔ اِس جگہ پر آتے ہی ایسا لگنے لگا کہ ہم ٹرکوں کے کسی بڑے ڈپو کے پاس آگئے ہیں۔ دراصل یہی شہر وہ مقام ہے جہاں تک چینی ٹرک سامان پہنچاتے ہیں اور پھر یہاں سے یہ سامان پاکستانی ٹرکوں کے ذریعے اگلی منزل تک بھیجا جاتا ہے۔
ہم پیٹرول بھروانے اِس شہر میں رُکے تو میرے ہاتھ میں کیمرہ دیکھ کر چند ٹرک ڈرائیورز نے تصویر بنانے کی فرمائش کردی، جو پوری کردی گئی لیکن ملک بھر سے آئے اِن ٹرک ڈرائیورز کی نگاہوں میں ہم ایسے سیاحوں کے خیر مقدمی کے احساسات کو محسوس کیا،
شاید اِس کی وجہ اِن لوگوں کا اپنے اپنے گھروں سے دور ہونا تھا۔ ایک مسافر کے درد کو دوسرے مسافر سے زیادہ کون جان سکتا ہے، بس ایسے ہی تیرا غم میرا غم اک جیسا صنم کی سی کیفیت میں ہم نے کئی لوگوں سے مسکراہٹوں کے تحفے وصول کیے، اور ایک مقامی ہوٹل سے چائے پینے چل دیے۔

تھوڑی آگے موجود ایک چیک پوسٹ پر کچھ دیر کو مارخور دیکھنے کے لیے رکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہاں پر ایک دوربین لگا کر سیاحوں کے لیے مارخور دیکھنے کا اہتمام کیا گیا تھا، سامنے والی پہاڑی پر ایک مارخور فیملی اِس بات سے بے نیاز کہ کوئی اُن کو ایک ٹک دیکھے جاتا ہے، وہ دھوپ سینکنے میں مصروف تھی۔

ڈیوٹی پر موجود اہلکار کا رویہ انتہائی دوستانہ اور پروفیشنل محسوس ہوا، بعد میں اُس نے کمال مہربانی سے اپنے موبائل فون سے اور میرے ذاتی کیمرے کے ساتھ مار خور کی اچھی تصویر لینے میں بھی مدد کی، لیکن افسوس کے میرے پاس لینز اتنا اچھا نہ تھا کہ مارخور کی بہت اچھی تصویر حاصل کر پاتا۔ اِس کسی حد تک ناکامی کے بعد اُنہوں نے راہنمائی کی کہ 500 میٹر آگے جا کر کوشش کیجیے ہوسکتا ہے کہ وہاں سے بہتر تصویر کی سبیل پیدا ہوسکے، جو کسی حد تک ہوئی بھی، لیکن اِن سب باتوں کے درمیان جو سب سے خوبصورت خیال تھا وہ یہ کہ پہلی دفعہ کسی حد تک لائیو پاکستان کے قومی جانور کو دیکھنے کا موقع ملا۔

گوکہ قومی جانور کا دور پہاڑی پر چڑھ کر بیٹھے رہنا مجھے ایک آنکھ نہیں بھایا، لیکن پھر بھی اِس مناسب موسم اور زاویے کا مل جانا کہ آپ ایک آدھ نہیں چار پانچ مار خور اکٹھے دیکھ سکیں کسی غنیمت سے کم نہ تھا۔

مختلف النوع پہاڑیوں کے دامن سے اُلجھتی اِس سڑک پر چلتے میں نے کئی بار یہ سوچا کہ کیسے انسان اور قدرت ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہیں، دیوہیکل پہاڑیوں کے دامن میں ایک لکیر کی سی حقیر سڑک، جیسے باون گزوں کی بستی میں ایک بالشتیہ۔ اگر یہ پہاڑ اِسے راستہ دینے سے انکار کردیں تو کیسے ایک ایک کنکر کو سنبھالے انسان کو اپنے سامنے سے گزرتا دیکھ سکیں؟

بس ایک لمحے کی دیر ہے کہ اگر یہ چھوٹا سا کنکر لڑھکا دیں تو انسان کی کیا مجال کہ دم مار سکے؟ کئی جگہ پر تو کچھ شرارتی پہاڑ انسان کو اُس کی اوقات یاد دلانے کے لیے دو چار پتھر پھینک بھی رہے تھے جو سڑک پر کسی احتجاج کے بعد کا ایک چھوٹا سا منظر پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ کئی ایک جگہ پر ٹوٹی ہوئی سڑک یا اُس کے کنارے کا دھاتی بارڈر بھی اِس سنگ باری کی زد میں آکر زخموں سے چور چور دکھائی دے رہا تھا، گوکہ سفر کی کامیابی یہ کہتی ہے کہ انسان کامیاب رہا، لیکن اِن پہاڑوں کی ہیبت سے ایک خوف کا عنصر دل میں ساتھ ساتھ چلتا ہے کہ نجانے کب قدرت انسان کی سب دانش کو چند بے جان پتھروں سے خاک میں ملا دے۔
اِنہی خیالات میں گُم تھے کہ حفیظ بھائی کی آواز نے چونکایا کہ دائیں طرف دیکھیں، یاک، یہ جنگلی نسل کے بیل ہیں جو اِس علاقے میں پائے جاتے ہیں، خوب موٹے تازے اور بڑے بڑے سینگوں والے، بعد میں کریم آباد میں یاک کے گوشت کے تکے بھی کھائے گئے۔ یہاں یاک کی یہ فیملی سڑک سے کچھ فاصلے پر تھی لیکن واپسی کے راستے میں یاک کا ایک جُھنڈ بالکل سڑک کنارے آیا ہوا تھا اور انہوں نے کمال مہربانی سے اچھے اچھے پوز سے تصاویر بھی بنوائیں۔

دیوقامت پہاڑوں کے دامن پر اِس سڑک پر چلتے چلتے ہم خُنجراب پاس تک جا پہنچے جسے پاک چین بارڈر کا درجہ حاصل ہے۔ یہاں کا درجہ حرارت منفی چار سے پانچ کے قریب تھا، باقی احباب کو تصاویر کھنچوانے کی فکر تھی لیکن مجھے ایک اور فکر نے آ پکڑا کہ بیت الخلاء ڈھونڈا جائے، ایک متعلقہ اہلکار نے دور ایک لوہے کے کنٹینر کی طرف اشارہ کیا کہ، ‘وہ دیکھیے، آپ کی منزل وہی ہے۔’

سخت سردی اور تھوڑی تھوڑی چلتی ہوئی ہوا، اور اوپر سے کم آکسیجن والا زون، اِس سخت موسم میں اپنی منزل کی جانب یہ 400 میٹر طے کرنا بھی مشکل لگ رہا تھا۔ احتیاط کے طور پر پانی کی بوتل ساتھ لیتا گیا اور اِسی احتیاط نے جان بچالی کیونکہ وہاں پانی نہیں تھا، ہو بھی کیسے سکتا تھا کیونکہ باہر منفی پانچ درجہ حرارت چل رہا تھا، وہاں رکھا بھی ہوتا تو جم گیا ہوتا۔ سامنے پانچ سو میٹر کی دوری پر ایک اے ٹی ایم مشین پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا کہ یہ دنیا کی بلند ترین اے ٹی ایم مشین ہے۔
اِسی مناسبت سے میں اپنی منزل کو دنیا کی بلند ترین ٹوائلٹ بھی کہہ سکتا ہوں، لیکن جب اِس کا دروازہ کھولا تو اِس کو گندگی کے اعتبار سے بھی دنیا کے بلند ترین معیار پر پایا۔

یہیں پر جہاں ایک غیر طے شدہ سی پارکنگ ہے وہاں ایک فوڈ ٹرک دیکھا گیا، جو چائے، کافی اور فرنچ فرائیز بیچ رہا تھا۔ سردی کی شدت کو مات دینے کے لیے چائے کا آڈر دیا گیا۔ چائے کی چسکی نے لطف دیا تو فرنچ فرائیز کا بھی کہا گیا۔ مزے کی بات یہ کہ یہاں کی کوالٹی اِس سڑک پر پائے جانے والی سب جگہ کی چائے سے اچھی لگی، لگ رہا تھا کہ کوئی شخص یورپ سے نہ صرف یہ آئیڈیا لایا ہے بلکہ اِس کی کوالٹی کو بھی برقرار رکھنے کی کوشش میں ہے۔

اِس کے بعد سامنے والے چینی بارڈر کے محراب کے ساتھ درجن بھر تصاویر بنائی گئیں، اور یہ کام نمٹانے کے بعد پھر سے واپسی پر اُسی فوڈ ٹرک سے کافی پی گئی، کچھ دیر اور سرد ہوا کھائی گئی لیکن جب صبر کا دامن چھوٹنے لگا تو واپسی کا سفر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
وہ راستہ جو صرف ایک تصویر کے حاصل کا راستہ لگتا تھا، اُس نے کئی ایک نئی چیزوں سے آشنا کروایا۔ مارخور، یاک اور سب سے بڑھ کر شاہراہ قراقرم کے پیچ و خم۔

اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کیا یہ سفر اختیار کرنا چاہیے یا نہیں؟ تو میرا اِس کے علاوہ کوئی اور جواب ہو ہی نہیں سکتا کہ اگر یہ نہیں دیکھا تو کچھ نہیں دیکھا۔

بشکریہ ” ڈان نیوز”۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here