ایورسٹ 40 برس بعد معزور کوہ پیما کے سامنے سرنگوں

0
884

چین کے ایک معزور کوہ پیما نے چالیس سال کے بعد ایورسٹ سر کر لیا ہے۔

زی بؤیو اس سے پہلے، 1975 میں ایورسٹ کو سر کرنے کے قریب پہنچے تھے تاہم ایک زبردست طوفان آنے کے بعد انھوں نے اپنا بستر ایک بیمار ساتھی کو دے دیا۔ جس کے بعد سردی کی وجہ سے انھیں فراسٹ بائٹ ہوگیا اور ان کی دونوں ٹانگیں ضائع ہوگئیں۔

لیکن اب چالیس سال کے بعد، انہتر سال کی عمر میں وہ ایورسٹ کو دونوں ٹانگوں سے معزوری کے باوجود سر کرنے والے دوسرے انسان بن گئے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ نیپال کی سمت سے ایورسٹ سر کرنے والے پہلے معزور کوہ پیما ہیں۔

معذوری کے باوجود انھوں نے ایورسٹ کو سر کرنے کا اپنا خواب ترک نہیں کیا
زی نے جب 1975 میں ایورسٹ سر کرنے کی کوشش کی تھی تو آٹھ ہزار میٹر کی بلندی پر انھیں اور ان کے تین ساتھیوں کو ایک خطرناک برفانی طوفان کا سامنا کرنا پڑا۔

طوفان کی شدت اور اپنے بیمار ساتھی کی حالت دیکھتے ہوئے انھوں نے ان کو اپنا بستر تو دے دیا لیکن انھیں اس کے نتیجے میں لمفوما ہوگیا۔ جس کے بعد 1996 میں ان کی دونوں ٹانگیں آپریشن کر کے کاٹ دی گئیں۔

معذوری کے باوجود انھوں نے ایورسٹ کو سر کرنے کا اپنا خواب ترک نہیں کیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا ‘ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنا ان کا خواب تھا۔ اور مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ یہ میرے لیے ایک ذاتی چیلینج ہے۔ یہ میری قسمت کے ساتھ جنگ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here