83 برس قبل جب قیامت ٹوٹ پڑی۔محمد عدنان خان

0
397

یہ جمعرات 30 مئی1935ء کا دن تھا۔ کوئٹہ شہر میں زندگی معمول کے مطابق تھی اور چھائونی میں برطانیہ کے بادشاہ، جارج پنجم کی سال گرہ کی تقریبات کے لیے ریہرسل جار ی تھی۔ سارے شہر کو آرائشی محرابوں سے سجایا گیا تھا۔ اس سلسلے میں یکم جون کو ریزیڈینسی گارڈن (موجودہ گورنر ہائوس) سے ملحقہ باغ میں ایک بڑی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا، جس میں بلوچستان کے عوام کے لیے مختلف منصوبوں اور مراعات کا اعلان بھی کیا جانا تھا۔ اسی دن سہ پہر کو بلوچستان میں ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل، نارمین کیٹر کی جانب سے سالانہ گارڈن پارٹی کا اہتمام کیا گیا، جس میں برطانوی اور ہندوستانی سرکاری افسران بمع اہلِ خانہ مدعو تھے۔30مئی کی رات نیا چاند نکلا تھا، اس وجہ سے قدرے اندھیرا تھا اور گزشتہ دو روز سے موسم بھی کچھ سرد تھا۔

کیلنڈر بدلا اور رات تین بج کر تین منٹ پر زمین ہچکولے کھانے لگی۔ لوگ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے، چیخ و پکار کے علاوہ کچھ سُنائی نہ دیتا تھا۔ ساٹھ ہزار آبادی پر مشتمل کوئٹہ، صرف تیس سیکنڈ میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ شہر کے شمال مغرب میں واقع، رائل ائیر فورس کا بیس مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جس میں 55افسران بھی ہلاک ہو گئے۔ پولیس لائنز، دربار ہال، پوسٹ آفس ،ٹیلی گراف آفس، سول اسپتال اور مشن اسپتال بھی ملبے کا ڈھیر بن گئے جب کہ ریزیڈینسی، کوئٹہ کلب اور ریلوے کوارٹرز بھی تباہ ہو گئے۔ کوئٹہ پولیس کو شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، تو سِول افسران کی اکثریت ہلاک ہو گئی۔ ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل، نارمین کیٹر کے خاندان کے تمام افراد زلزلے میں ہلاک ہو گئے، جب کہ اُنھوں نے کھڑکی سے کود کر جان بچائی۔ برٹش اسپتال میں، جو صرف برطانوی افسران اور ملازمین کے لیے بنایا گیا تھا، دو سو افراد لقمۂ اجل بنے۔ شمال مغرب میں واقع گائوں، شیخ ماندہ کا ایک بھی آدمی زندہ نہ بچا۔ پولیٹیکل ایجنٹ کے مطابق، صرف قلّات میں 3250افراد جاں بہ حق ہوئے۔ سوراب کے گائوں، توک کے پہاڑی سلسلے سے لاوا اور دھواں نکلتے دیکھا گیا۔ مستونگ میں 95مکانات گر گئے اور بد قسمتی سے اُن میں مقیم کوئی بھی شخص زندہ نہ بچ سکا۔

تاہم زلزلہ آنے کے تین منٹ بعد ہی 2nd Indian divisional signals کوارٹر گارڈ نے خطرے کا الارم بجا دیا اور فوری طور پر امدادی کاروائیاں شروع کردیں، جب کہ وائسرائے ہند بھی چند گھنٹوں کے اندر کوئٹہ پہنچ گئے۔ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر متاثرینِ زلزلہ کے لیے کیمپس قائم کر دیے۔ 12000فوجیوں کو تین گروپس میں تقسیم کر کے متاثرہ علاقوں میں تعیّنات کر دیا گیا، جن کا کام امدادی سرگرمیوں کے ساتھ، امنِ عامّہ کی صُورتِ حال کو بھی بہتر بنانا تھا۔ فوج نے کُھلے میدانوں میں خیمے نصب کر کے اسپتال قائم کر دیے۔ شہر کو 9 فٹ اونچی خار دار تاروں سے سیل کر کے مارشل لاء لگا دیا گیا۔ گو کہ فوج نے کسی کو شہر میں داخل نہیں ہونے دیا، لیکن اس کے باوجود باہر سے آکر لوٹ مار کرنے والوں کا ہجوم بڑھتا ہی گیا۔ علاوہ ازیں، انگریز فوج نے شہر سے ملبہ ہٹانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ریل کی چھوٹی پٹری بچھائی۔ نیز، وائسرائے ہند نے فوری طور پر’’ کوئٹہ زلزلہ امدادی فنڈ‘‘ کا اجراء کیا، جو مارچ 1936 ء میں بند ہوا۔ اس فنڈ میں دس ماہ کے دَوران 54لاکھ روپے جمع ہوئے، جو کوئٹہ کی تعمیر اور عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہوئے۔ چوں کہ اُس زمانے میں بینکس میں رقم رکھنے کا رواج نہیں تھا، تاجر اپنا سرمایہ گھروں ہی میں رکھتے تھے، یوں کروڑوں روپے ملبے تلے دفن ہو گئے۔ دس جون 1935 ء تک زلزلے سے بچ جانے والے 20000افراد کو خصوصی ٹرینز کے ذریعے کراچی، لاہور، بمبئی اور دیگر شہروں کو روانہ کیا گیا۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے کوئٹہ سے جانے کے بعد شہر ویران ہو گیا۔ حکومتِ ہند نے تو اگلے تیرہ ماہ میں کوئٹہ کی تعمیرِ نو مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا، مگر عوام اور حکومت نے مل کر اس جاں فشانی سے کام کیا کہ صرف 6ماہ ہی میں نیا کوئٹہ وجود میں آگیا۔6000 متاثرین نے اپنی جائیدادوں کی بحالی کے لیے درخواستیں جمع کروائیں اور 31 دسمبر 1936ء تک 8557964 روپے مالیت کی جائیدادیں مالکان کے حوالے کی گئیں، جب کہ12607 پراپرٹیز پر کلیم کرنے والا کوئی زندہ ہی نہ رہا۔

اس زلزلے میں کتنی اموات ہوئیں؟ اس پر اختلاف ہے۔ کئی ایک برطانوی اہلِ علم نے اس موضوع پر کتابیں لکھی ہیں، جن کے مطابق، مرنے والوں کی تعداد 26 ہزار سے 35 ہزار کے درمیان تھی، تاہم یکم جون 1935ء کو محکمۂ اطلاعات کے افسر، این سی او مور جی نے دہلی میںایک بیان جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ’’ ہلاک ہونے والوں کی تعداد سات سے دس ہزار کے درمیان ہے۔‘‘ ہلاک شدگان کی تعداد کم ظاہر کرنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عوامی حلقوں کی جانب سے حکومتِ ہند پر تاخیری حربے استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے گئے تھے، جن کے مطابق حکومت نے عام افراد کی مدد کرنے کی بجائے، چند سو برطانوی خاندانوں کو تلاش اور اُنہیں محفوظ مقام پر پہنچانے کو اولیت دی تھی۔ اس زلزلے کے بعد حکومت نےکوئٹہ کے لیے خصوصی بلڈنگ کوڈز متعارف کروائے، جس کے تحت شہر میں کم اونچائی والے مکانات تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اگرچہ عمارات کی تعمیر سے متعلق وہ قواعد و ضوابط اب بھی نافذ ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ میں ہر طرف بلند و بالا عمارتیں نظر آتی ہیں، جو کسی خطرے سے کم نہیں.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here