جاگیرداری اور شرافت کے حسین نمونے۔عبدالمتین اخونزادہ

0
414

انسان تخلیق کائنات میں سب سے حسین اور بامقصد ایجاد و اختراع ربانی ہے،
مالک ارض و سما ء نے ہستی انسان کو خوبیوں اور اچھائیوں کا مرجع بنا کر زندگی کی دوڑ میں شامل کیا ہے،،
حضرت انسان خود اختیار کردہ
مصنوعی و نفسی طریقے و رواج اختیار کرکے زندگی کی نعمت عظمیٰ کو ضائع کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور موت کے ساتھ ہی اس کی زندگی کا خاتمہ ہو کر انسانی برادری اسے بھول جاتی ہے یا مقصد تخلیق کائنات اور حضرت انسان کی اپنی وجہ پیدائش کے ساتھ شعور نبوت ورسالت اور فکر و نظر کی بنیاد پر معاملات زندگی اختیار کرتے ہیں۔
ان دو بالکل متضاد
دھاروں کی تشکیل میں
حالات اور واقعات کے
ساتھ بنیادی تصورات اور
مواقع فراہم کرنے کے لئے سوسائٹی اور اشرافیہ
بھی ذمہ دار ہوتے ہیں،
اور قدرت کا نظام ھدایت الٰہی اور فکر و دانش کے مواقع سے استفادہ کرنے کی کوشش و ضرورت بھی شامل ہیں،،

ان بنیادی تصورات کے
ساتھ آج ہم معاشرے
سے بچھڑنے والے دو بزرگ سیاستدانوں اور روایات و اقدار کے امین میر ظفر اللہ جمالی مرحوم اور سردار شیر باز مزاری مرحوم کے زندگیوں اور موت
کا تذکرہ کرتے ہیں،،
بلوچ سردار ہونے کے ساتھ دونوں روجھان جمالی اور روجھان مزاری سے اٹھے اور زندگیاں گزار کر واپس اپنے دیہات میں مدفون ہوئے۔

پیدائش اور وفات کے درمیان عرصے کا نام زندگی ہے،،
سوال اور امتحان یہ ہے کہ یہ زندگی کیسی گذرتی ہے یا کیسے گزاری جاتی ہے۔
پہلا بنیادی فرق تو امیر و غریب کی نشوونما اور ارتقاء میں آسمان وزمین جیسا فرق ہے،،
غریب کے لئے مواقع فراہم کرنے پر ریاست اور معاشرے و سماجیات کے فلسفے کوئی بھی تیار نہیں ہیں اور امیر زادوں کے لئے پورا نظام سیاست و قبائلی روایات اور فکر و دانش کے تمام فلسفے ہر طرح تیار و بیدار رہتے ہیں۔
زندگی کے بنیادی تصورات اور زندہ سوالات کے جوابات فراہم کرنے کے لئے اس نظام زندگی و سیاست اور مذہب و دانش کا ادراک لازمی قرار دیا جاسکتا ہے۔
ان بزرگ سیاستدانوں سے اختلاف اور اتفاق رائے دونوں کا دائرہ وسیع تر ہوتا ہے اس لئے کہ ان کی زندگیوں میں مختلف مراحل آتے ہیں اور نیکیوں و بھلائیوں کے ساتھ مسائل زندگی میں تلخیاں بھی پیشِ نظر رہنے چاہئیں۔
اس لئے بعض اوقات
پوری بات کھل کر ہمارے
معاشرتی آداب و روایات میں ممکن نہیں ہو پاتی ہیں۔

اس پر مستزاد یہ کہ
ہمارے معاشرے میں موت سے پہلے زندگی میں بھی کسی فرد کی خوبیوں و خامیوں کو کھل کر دیانتداری سے ایڈریس کرنے کی روایت و اجازت نہیں ہے۔
میر ظفر اللہ جمالی
اپنے دیہاتی تمدن و معاشرت سے اٹھ کر پاکستان کے وزیراعظم بنے اور سردار شیر باز مزاری روجھان مزاری کے خاک میکنی سے ملک کے قائد حزب اختلاف تک رہے،،
تعلیم و دانش مندی میں
سردار شیر باز مزاری انتہائی شاندار کتاب دوستی کے حامل رہے میری ان سے پہلی اور آخری ملاقات 21 ویں صدی کی دوسری دہائی کے اوائل میں جماعت اسلامی کے مرکزی وفد کے ہمراہ لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ہوئی جو نہایت تفصیلی اور خوش گوار اثرات مرتب کرنے کی حامل تھی،،
مجھے کراچی میں ان کے لائبریری نما ء گھر اور محل میں کتابوں کی خوشبو و دانش کی زندگی بہت پسند آئی وہ فرمارہے تھے کہ سیاست اور عملی زندگی سے ریٹائرمنٹ کے بعد سالوں سے ان کا معمول ہے کہ وہ چند گھنٹے سونے اور ضروری مہمانوں کے علاوہ کتابوں کے درمیان ہی رہتے ہیں،
مجھے نہیں معلوم کہ کتاب دوستی کے حامل سردار شیر باز مزاری صاحب کے تحریری و تحقیقی آثار و تخلیقات کتنے ہیں اور ان کے اولاد و ورثاء میں ان کے کتب و دانش کو محفوظ رکھنے اور اسے آج کی زبان میں نسلوں کے لئے کب اور کیسے منتقل کریں گے۔اگرچہ سردار شیر باز مزاری صاحب کے فعال سیاسی زندگی میں متحرک سیاسی کردار کے مختلف مراحل اور خوبیوں کو بھی یقینی طور پر 21 ویں صدی کے کرونا زدہ سیاسی کارکنوں کے لئے
ضروری طور پر تحریر و شائع ہونے چاہئیں۔میر ظفر اللہ جمالی صاحب سے کثیر ملاقاتیں اور رابطے رہے ہیں خوش گوار اثرات کے ساتھ کہیں تلخیاں بھی در آتی ہیں۔

سیاسی و سماجی شخصیات کے زندگیوں میں،،
انھیں ہمہ پہلو خوبیوں اور سماجی اثرات کی حامل بھرپور شخصیت میر ظفر اللہ جمالی صاحب کی تھی ان کی بنیادی خوبی عہدوں اور مناصب سے اوپر رہ کر ہر سطح پر سیاسی و سماجی تعلقات رکھتے تھے،،
جب وہ صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تھے تب ہم زمانہ طالب علمی کے دوران ان کی ذات و شخصیت سے متعلق ہوئے،جب وہ وزیراعظم پاکستان بنے اور بعد ازاں ان کے زندگی کے آخری ایام تک وہ رابطے و مشفقانہ تعلق برقرار رہا۔
ھمارے صوبے میں نصیر آباد جعفرآباد اور سبی و کوھلو ڈویژن کے دس اضلاع کا علاقہ مکمل طور پر جاگیرداری نظام سیاست کے گرفت میں ہیں،
اس لئے جب بھی کوئی سیاسی پارٹی خاص کر مڈل کلاس کے
سیاسی کارکنان اپنے پاؤں جمانے کی کوشش کرتے تو بڑے لوگوں اور
قبیلوں کی جانب سےبھرپور مزاحمت ہوتی تھی۔سالوں پہلے
جب ڈیرہ بگٹی و سوئی
کے علاقے میں ہمارے خوبصورت دوست اور
مستقبل کے شاندار سیاسی شخصیت کا موقع پانے والے محترم امان اللہ خان بگٹی شھید
نے علاقے میں
سیاسی و سماجی شعور پھیلانے کی کوشش کی
تو انھیں علاقائی قوتوں کی جانب سے زندگی سےہی ہاتھ دھونے پڑے۔بلکل اسی طرح جب
جعفر آباد میں ایک ضمنی انتخاب میں
ھمارے ایک جفاکش اور
قابلِ قدر دوست لعل بخش کھوسہ نےانتخابات میں حصہ لیا۔تو مقامی قوتوں نے اسٹیس کو توڑنے پر
مداخلت کے ساتھ ساتھ
ممکنہ طور پر اس تبدیلی کے عمل کو روکنے کی کامیاب کوشش کی۔میر ظفر اللہ جمالی کی شخصیت انتہائی جاندار اور روایاتِ و اقدار کے
پابند مثالی شخصیت تھی ۔
2010,11 میں جب
دو تین سال متواتر
نصیر آباد جعفرآباد کے
علاقے میں شدید سیلاب
آنے سے وسیع نقصانات
ہوئے تو اس موقع پر
ایک عید مبارکہ میں
عید کی نماز کے
ادائیگی کے بعد
ھم متاثرین کے کیمپوں اور خیموں کا وزٹ کررہےتھے
تومیر ظفر اللہ جمالی خود ایک پیٹرول پمپ پر عید کی خوشیاں منانے متاثرین کے ساتھ موجود تھے۔
ہمیں خوش آمدید کہتے ہوئے انھوں نے روایتی انداز کے ساتھ دلی طور پر
متاثر کن مہمان داری فرمائی اور اپنے عوام کے ساتھ رہنے و ان کے غم میں شریک رہنے
کا اظہار خیال فرمایا۔

رب العالمین آسانی فرمائیں اور ان دونوں عظیم شخصیات کی مغفرت کاملہ عطا فرمائے آمین،
تاریخی اور بڑے شخصیات عوام اور تاریخ دونوں کے مشترکہ اثاثہ ہوتے ہیں اور عوام کا یہ حق بنتا ہے کہ ان شخصیات کا تذکرہ و تجزیہ کرتے ہوئے اپنے لئے خوبیاں اور راہنمائی تلاش کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here