سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں تحلیل

0
900

سندھ اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں 5 سالہ مدت مکمل ہونے پرتحلیل ہوگئیں۔

سندھ اسمبلی کی پانچ سالہ مدت کے آخری اجلاس میں الوداعی خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے تھر میں کول مائننگ کا کام مکمل ہونےک ی حد تک پہنچایا، ہیلتھ سیکٹر میں بہتری آئی تاہم ایجوکیشن سیکٹر میں کام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ انفرااسٹرکچر کا کام زبردست طریقے سے وقت پر مکمل کیاگیا، سندھ کے تقریباً تمام اضلاع روڈ نیٹ ورک اور پلوں سے جڑے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ نگراں وزیر اعلیٰ کے اعلان تک وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں گے۔
ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے کہا کہ ان کی طرف سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو معذرت کرتی ہیں۔

خیبرپختونخوا اسمبلی نے پانچ برسوں کے دوران 150 سے زائد قوانین وضع کیے جن میں ناظرہ قرآن کو لازمی قرار دینا اور اطلاعات تک رسائی قانون شامل ہیں۔

پانچ سالوں کے دوران بلین ٹری سونامی، ڈاکٹرز، نرسز اور اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں جبکہ دو میگا پراجکیٹس بس ریپڈ ٹرانزٹ اور سوات ایکسپریس وے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔

پولیس ریفارمز کو حکومت کا بڑا کارنامہ سمجھا جاتا ہے جب کہ احتساب کمیشن کی ناکامی احتساب کی دعویدار صوبائی حکومت کی ناکامی سمجھی جاتی ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کا آخری اجلاس کورم کی نذر ہوگیا تھا۔
بلوچستان اور پنجاب کی اسمبلیاں 31 مئی کو اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد تحلیل ہوں گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here