خلافت عثمانیہ کا زوال اور وجوہات. تحریر:- عمرفاروق ملک

0
158

قسط اول .
ایک وقت تھا کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کی عزت و تکریم خلافت عثمانیہ کے عروج کی وجہ سے کی جاتی تھی، کیا عیسائی، کیا انگریز، اور کیا یہودی سب پر عثمانیہ سلطنت کا دبدبہ طاری تھا، کفار مسلمانوں کی طاقت سے خوفزدہ تھے، اور عثمانیہ سلطنت توڑنے کے نت نئے منصوبے بناتے پھرتے، عرب شریف میں بھی 1922 سے پہلے خلافت عثمانیہ کا راج تھا، اس سے پہلے سعودی عرب کا نام حجاز مقدس تھا جو کہ 1400 سال کی مسلم تاریخ میں پہلی مرتبہ حجاز مقدس سے سعودی عرب میں تبدیل ہوا جو کہ اس ٹائم کے سعودی عرب کے بادشاہ ابن سعود کے نام پر رکھا گیا.
دنیا بھر میں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہوتا تو ترکی اس کا بھرپور جواب دیتا، امریکہ، برطانیہ حتیٰ کہ دنیا بھر کے کفار خوفزدہ تھے تو وہ سلطنت عثمانیہ تھی، ایسے میں کفار نے مل کر سازشیں شروع کر دی، انگریزوں کو پتہ تھا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے اس لیے پہلا فتنہ وہاں سے شروع کرایا گیا، انگریزوں نے عرب میں ایک ایسے شخص کو کھڑا کر دیا جو حقیقت عیسائی مذہب سے تھا، لیکن عربی میں اس کو ایسی مہارت تھی کہ کوئی اس پر شک نہیں کر سکتا تھا اس نے سب سے پہلے لوگوں کو یہ کہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ تم عرب ہو اور ایک غیر عرب تم پر حکومت کررہے ہیں، لیکن لوگوں نے اس کی بات پر اتنی توجہ نہ دی، اس کے بعد امریکہ اور دوسرے ملکوں نے مل کر ایک شخص جس کا نام عبدالوھاب نجدی تھا اس کو کھڑا کیا اور اس کی ملاقات عرب کے مشہور تاجر ابن سعود سے کروائی، نجدی نے اس کو بادشاہت کا لالچ دے کر بغاوت پر اکسا لیا، جس کے بعد پورے عرب میں قتل وغارت شروع ہو گئی، ان حالات میں ترکی نے جب دیکھا کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ کے علاوہ طاءف اور دوسرے علاقوں میں بھی مسلمانوں کو بےدردی سے مارا جا رہا ہے تو اس نے عالمی سطح پر یہ اعلان کر دیا کہ ہم اس پاک جگہ پر قتل وغارت نہیں چاہتے اور خلافت عثمانیہ کے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں، اس کے بعد 40 نئے ممالک وجود میں آے، جن میں سے ایک سعودی عرب بھی ہے، پچھلے کچھ ماہ سے پوری دنیا میں ترکی ڈرامہ ارتغرل غازی کی پوری دنیا میں دھاک بیٹھ گئی ہے، یہاں تک کہ نیویارک ٹائمز نے تو اس ڈرامے کو خاموش ایٹم بم تک کہہ دیا، کیونکہ یہودی لابی نے اتنے عرصے تک میڈیا میں جو اینویسمنٹ کی تھی وہ اس ڈرامے کی وجہ سے ڈوبتی نظر آتی ہے جس میں مسلمانوں کے ہیرو ارتغرل غازی جیسے شاہکار کو دکھایا جا رہا ہے جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تھے، اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کا اتحاد نصیب فرمائے.آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here