ہم ایک رپورٹ کے آئینہ میں۔۔ زاہدہ حنا

0
343

مٹی کا ایک مخروطی سلنڈر ہے جسے آج سے ڈھائی ہزار برس پہلے دہکتی ہوئی آگ میں پکایا گیا تھا۔ اس پر عکادی زبان میں سائرس اعظم کا وہ فرمان نقش ہے جسے آج تک حقوق انسانی کا پہلا معلوم فرمان کہا جاتا ہے۔
یہ اس عظیم فتح کے بعد سائرس اعظم نے جاری کیا جو اس نے شہر بابل پر حاصل کی تھی۔ اس وقت تک کا دستور تھا کہ کسی بھی شہر یا علاقے کے فتح ہوتے ہی فاتح شہر کو لوٹنے کا حکم دیتا ، اس حکم کے ساتھ ہی شہر لوٹ لیا جاتا، بستی تاراج کردی جاتی۔ مرد اور بچے غلام بنالیے جاتے جب کہ عورتیں کنیز بنا کر فاتح لشکر میں تقسیم کردی جاتیں۔
539 قبل مسیح میں یہ سائرس اعظم تھا جس نے انسانوں اور بہ طور خاص مفتوحوں کے لیے جو فرمان جاری کیا وہ اس کے جرنیلوں اورسپاہیوں کے لیے ناقابل یقین تھا۔ اس نے بابل کے کسی شہر ی کو نہ غلام بنایا نہ کنیز۔ اس نے شہر کو تاراج بھی نہیں کیا اور یہ اعلان کیا کہ کسی نسل کو کسی دوسری نسل پر فوقیت حاصل نہیں ہوگی اور ہرشخص اپنی پسند کے مذہب کو اختیار کرسکے گا۔
اس کے یہ احکامات مٹی کے مخروطی کے سلنڈر پر پیکانی خط میں کھودے گئے، اس مخروط کو دہکتی ہوئی بھٹی میں پکایا گیا۔یہ کھدائی میں برآمد ہوا لیکن وقت نے اسے قدرے نقصان پہنچادیا ہے۔ اس کے قوانین اقوام متحدہ کی 6 سرکاری زبانوں میں ترجمہ کیے گئے ہیں اور ان کے 4 نکات 1948ء میں منظورکیے جانے والے انسانی حقوق کے میثاق سے مطابقت رکھتے ہیں۔ اس موقعہ پر اشوک اعظم کی یاد آتی ہے جس نے 273 ق م میں قتل و غارت اور جنگ و جدال کے خلاف احکامات جاری کیے تھے۔ یہ تمام باتیں اس لیے یاد آرہی ہیں کہ ایچ آر سی پی کے کوآرڈینیٹر شمس الدین کی بھیجی ہوئی پاکستان میں انسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ برائے 2014ء میرے سامنے ہے۔ یہ سالانہ رپورٹیں 90 کی دہائی سے شائع ہونا شروع ہوئیں اور سال بہ سال ان کی ضخامت بڑھتی چلی گئی۔
2014 ء کی انگریزی میں شائع ہونے والی رپورٹ 418 صفحات پر مشتمل ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اسے پڑھنے کے لیے جگر چاہیے۔ ہمارے شہری کن عذابوں میں گرفتار ہیں، ان کی تفصیل میں جائیے تو دل خون ہوتا ہے۔ 2008ء سے آج تک ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں منتخب ہیں، جمہوری طرز حکمرانی کا تسلسل ہیں۔ اس سے وابستہ ہمارے نمائندے بہت کچھ کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں لیکن محسوس یوں ہوتا ہے کہ دوسری بہت سی فوری مصروفیتیں ایسی ہیں جنھوں نے انھیں ان معاملات کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیا۔
اس رپورٹ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ گزشتہ برسوں کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستان کی مذہبی اقلیتیں انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کا خصوصی نشانہ بنی ہیں۔ 2014 ء کا سال مختلف مذہبی اقلیتوں پر حملوں سے شروع ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق11 احمدی دہشت گردوں کا نشانہ بنے، سندھ میں ہندوؤں کے اور عیسائیوں کے 11مندر اور گرجا گھر وں پر حملے ہوئے۔ اگر تفصیل میں جاکر دیکھاجائے تو فرقہ وارانہ بنیادوں پر ملک بھر میں 144 واقعات ہوئے۔
امید یہ کی جارہی تھی کی ان واقعات میں کمی ہوگی لیکن حقیقت یہ ہے کہ 2013ء کی نسبت 2014ء میں فرقہ وارانہ حملوں میں اضافہ ہوا۔ ان ہی بنیادوں پر ملک کے 210 شہری اپنی جان سے گئے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ اقلیتوں نے اپنے آپ کو غیرمحفوظ سمجھنا شروع کیا اور مختلف برادریوں میں خوف کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ پائی گئی۔ ایک نہایت افسوس ناک بات یہ دیکھنے میں آئی کہ دنیا بھر میں جو 356 پولیو کے کیس پائے گئے ان میں سے 86 فی صد پاکستان میں تھے۔
پولیو جیسے خطرناک مرض کے بارے میں ہمارے یہاں جہل پر مبنی جو روش پائی جاتی ہے، یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ بچوں کو اس موذی مرض سے بچانے کے لیے کام کرنے والے مرد اور خواتین رضا کاروں میں سے 45 رضا کار قتل کردیے گئے۔ اسی طرح ملک بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں 1700 پاکستانی شہری مارے گئے۔ کئی برس سے ملک بھر میں بہ طور خاص بلوچستان میں غائب ہوجانے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن 2014 ء کو اس حساب سے بہتر قرار دیا جاسکتا ہے کہ اس سال غائب ہوجانے والے افراد کی تعداد میں قدرے کمی دیکھنے میں آئی۔
اس رپورٹ میں کیسے خوفناک حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ 587 عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی طور پر زیادتی ہوئی۔ 36 برسر عام برہنہ کر کے گلیوں میں پھرائی گئیں اور 828 زنا کا شکار ہوئیں۔ 62 فی صد لڑکیوں نے 2014ء میں کسی اسکول کی دہلیز نہیں پار کی۔ سندھ میں متعدد ہندو لڑکیوں سے جبری طور پر ان کا مذہب تبدیل کرایا گیا اور پھر ان سے شادی کر لی گئی۔ 923 عورتیں اور 82 نابالغ لڑکیاں عزت کے نام پر قتل کردی گئیں۔
2014 ء میں 92 عورتوں اور 13 نابالغ لڑکیوں پر تیزاب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 7 عورتیں ہلاک ہوگئیں۔ آگ لگانے، چولہا اور سلنڈر پھٹنے سے 60 عورتیں جان سے گئیں۔ 2014ء میں ہی مددگار نیشنل ہیلپ لائن نے گزشتہ 3برسوں کے دوران بچوں پر ہونے والے جنسی اور جسمانی تشدد کی تفصیل جاری کی جسے پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔
اگر ڈیڑھ اور تین برس کی بچیوں کے ساتھ زیادتی اور پھر انھیں قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہو تو انسانیت پر سے یقین اٹھنے لگتا ہے۔ایچ آر سی پی نے اپنی رپورٹ میں وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کی 2014 ء میں 18,700 لوگ اغواء ہوئے جن میں اکثریت عورتوں اور لڑکیوں کی تھی۔
2014ء کا سال صحافیوں پر بہت بھاری گزرا۔ ایک مدت سے صحافیوں کو حکومت، مختلف مسلح گروہوں، انتہا پسندوں اور نسلی، لسانی یا مسلکی بنیادوں پر سخت دباؤ کا سامنا رہتا ہے ہر طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی پسند کی خبریں شائع کریں جب کہ کسی بھی غیرجانبدار صحافی کے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ 2014 ء میں ہمارے 8 صحافی قتل ہوئے۔ مختلف نیوز چینلوں کے دفاتر پر حملے ہوئے۔ 17جنوری 2014ء کو کراچی میں ایکسپریس نیوز کے 3 کارکن قتل کیے گئے۔ بلوچستان میں صورتحال کہیں زیادہ تشویش ناک ہے۔
مختلف اخباروں یا نیوز ایجنسیوں کے نمائندوں کی تعداد کم ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں نہ حکومت کی طرف سے حفاظت فراہم کی جاتی ہے ، نہ ان اداروں کی طر ف سے جن کے لیے ہم کام کرتے ہیں۔ بلوچستان کے شہر خضدار میں پریس کلب کے ممبروں کی تعداد 20 سے گھٹ کر 7 رہ گئی ہے اور قلات پریس کلب کے دس ممبروں میں سے اب صرف 4 اس کے رکن رہ گئے ہیں۔ رضا رومی اور کئی دوسرے صحافی تشدد کا نشانہ بنے۔
ان میں سے چند صحافی مبینہ طور پر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے پُرتشدد حملے کے نتیجے میں اسپتال تک پہنچے۔ ایچ آر سی پی کے مطابق صحافیوں کے خلاف سب سے بڑا حملہ 31 اگست کو ہوا جس میں 28 صحافی، کیمرہ مین اور دوسرے میڈیا اراکین پی ٹی آئی، پاکستان عوامی تحریک اور پولیس میں جھڑپوں کے دوران زدوکوب کیے گئے، حالانکہ تشدد کا نشانہ بننے والوں نے بہ طور رپورٹر اور کیمرہ مین اپنی شناخت بھی کرائی تھی۔
مزدوروں، بچوں، مہاجرین اور جیلوں کی غیر انسانی صورت حال، سب ہی کے بارے میں رپورٹ ہمیں تفصیل بتاتی ہے۔ آرمی پبلک اسکول پشاور میں بچوں کے قتل عام اور اس کے نتیجے میں پھانسی کی سزاؤں کی بحالی، 90 دن کی مدت تک کسی بھی شخص کو شک و شبہے کی بنا پر زیر حراست رکھنا، فوجی عدالتوں کا قیام اور ان کے فیصلے جنھیں سول عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور ایسے ہی بہت سے دوسرے معاملات دل کے ٹکڑے کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی بعض نکات ایسے ہیں جو بہتری کی نوید دیتے ہیں۔ کم عمری کی شادیوں پر پابندی کا قانون، گھریلو تشدد کی روک تھام کو قانون کے دائرے میں لانے کی بات اور اس کے ساتھ ہی کم سے کم اجرت میں اضافہ، سیاست میں عورتوں کی بڑھتی ہوئی شراکت وہ معاملات ہیں جن سے امید بندھتی ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ بہتری ضرور ہوگی۔ لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا ، اس وقت تک ہم اس رپورٹ کو اپنے سماج کا وہ آئینہ جانیں جسے دیکھ کر ہم شرماجاتے ہیں۔
———————-
بشکریہ روزنامہ “ایکسپریس
“انڈس نیوز ڈاٹ کام” کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here