افغانستان۔ بس لائبریری اور بچوں کی دوڑ

0
334

جسے ہی نیلےرنگ کی بس کا دروازہ کھلا، درجنوں بچے بس میں رکھی کئی کتابوں میں سے اپنی من پسند کتاب ڈھونڈنے کے لیے بے تابی سے دوڑتے ہیں۔ یہ منظر نظر آتا ہے کابل کی پہلی موبائل لائبریری چار مغز کے باہر۔
افغانستان کے دارالحکومت کی گرد آلود سڑکوں پردھول اڑاتی کتابوں سے بھری یہ بس، یہاں اپنی نوعیت کی پہلی موبائل لائبریری ہے جو سڑکوں پر نظر آنے والے بچوں کو کتابوں تک بلا معاوضہ رسائی دیتی ہے۔

چار مغز لائبریری سے روزآنہ قریب تین سو بچے فائدہ اٹھاتے ہیں جو یہاں کے حالات کے پیش نظر ایک غیر معمولی بات ہے۔ اس بس کو ایک سرکاری بس کمپنی سے کرائے پر حاصل کیا گیا ہے۔

روایتی لائبریریوں میں عموماﹰ آپس میں بات کرنے کی ممانعت ہوتی ہے لیکن چار مغز میں باتوں کی مستقلاﹰ ہلکی سی آوازیں سنائی دیتی ہے۔کچھ بچے یہاں فرش پر بچھے کارپٹ پر بیٹھے ہیں توکچھ یہاں رکھی گئی کرسیوں پر افغان پبلشرز کی عطیہ کردہ کتابیں پڑھنے میں مگن ہوتے ہیں۔ یہاں ایسی چھ سو کتابیں موجود ہیں جو بچوں کو متوجہ رکھتی ہیں۔

اس لائبریری بس کو رواں برس فروری میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے گریجویٹ فرشتہ کریم نے شروع کیا اور خود کو افغانستان کے بچوں کو پڑھنے کا موقع دینے کے لیے وقف کر دیا۔ وہ کہتی ہیں، ’’جب ہم چھوٹے تھے تو ہمیں بچوں کی لائبریریوں تک رسائی نہیں تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے اسکول میں تو بیٹھنے کے لیے کرسیاں تک نہیں تھیں اور ہم فرش پر بیٹھ کر پڑھتے تھے۔