ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر مسلم لیگی ارکان ناراض

0
544

مسلم لیگ ن کے اراکین پارلیمنٹ کی اکثریت جمعرات کو پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے ممبئی حملوں سے متعلق بیان پر پھٹ پڑے اور کہا کہ ایک ایسے موقع پر جب ن لیگ کے اداروں کے ساتھ تعلقات بہتر نہیں ۔نوازشریف نے ایسا بیان دے کر امتحان میں ڈال دیا اور وہ اپنے حلقوں میں تنقید کا باعث بن رہے ہیں۔ن لیگ کے صدر شہباز شریف وضاحتیں دیتے رہے اور کہا کہ جس نے بھی نواز شریف کا انٹرویو ارینج کیا۔ اس نے نواز شریف اور پارٹی کے ساتھ بہت بڑی زیادتی کی۔ انہوں نے ن لیگ کے اراکین پارلیمنٹ کو یہ بھی یقین دلایا کہ آنے والے دنوں میں وہ نواز شریف کے لہجے میں نرمی دیکھیں گے۔ شہباز شریف اراکین پارلیمنٹ سے خطاب میں یہ بھی کہہ گئے کہ ن لیگ کا 2018 کے انتخابات میں اصل مقابلہ نادیدہ قوتوں اور اسٹیبلشمنٹ سے ہوگا ۔شہبازشریف کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت ن لیگ کے124 اراکین نے شرکت کی۔ تاہم پارلیمنٹ ہاوس میں ہونے کے باوجود سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار اجلاس میں شریک نہ ہوئے۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاض پیرزادہ ،عبد الرحمان کانجو سمیت اراکین کی بڑی تعداد نے نواز شریف کے موجود ہ بیانیے ووٹ کو عزت دو کی حمایت کی مگر ممبئی حملوں سے متعلق بیان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ شہبازشریف نے اراکین کی تجاویزاور مطالبات نوازشریف تک پہنچانے کی یقین دہانی کرادی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے عوام سے گزشتہ انتخابات میں کئے گئے وعدوں کو پورا کیا۔ دھرنوں اور دیگر منفی ہتھکنڈوں سے ملکی ترقی کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی۔ تمام تر مشکلات کے باوجود مسلم لیگ ن آج بھی ملک کی سب سے مقبول سیاسی جماعت ہے۔ عوام کی طاقت سے مسلم لیگ ن عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here