پاکستان اور وڈیرہ شاھی۔ تحریر عمرفاروق ملک

0
884

ملک پاکستان میں پچھلے 70سالوں میں وڈیرہ شاھی کو جتنا فروغ ملا ہے اتنا کسی اور طبقے کو نہیں ملا، غریب کو دن بدن پستی کی طرف دھکیلا گیا اور امیر دن بدن طاقت سے طاقتور ہوتا گیا، طاقت کے اس نشے میں وڈیرہ شاھی مزید تقویت پکڑتا گیا،
پچھلے دنوں ایک ویڈیو کلپ نظر سے گزرا، جس میں دو نوجوان ایک عورت اور بچے پر ظلم کی انتہا کر رہے تھے، جب وہ دو نوجوان اس عورت اور بچے پر تشدد کر رہے تھے تو ان کے ساتھ کھڑی نوجوان لڑکی نے الٹے پاؤں پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، لیکن اس کی یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی، اور دونوں نوجوانوں نے اس عورت کو چھوڑ کر اس لڑکی کو پکڑ لیا، وہ عورت شاید اس کی ماں تھی جو چاروں طرف مدد طلب نظروں سے دیکھتی رہی، چیختی چلاتی رہی، لیکن کوئی اس کی مدد کو نہ پہنچا اور ان نوجوانوں نے بھی اس عورت اور بچے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس لڑکی کو زبردستی ٹریکٹر پر بٹھا کر لے گئے، یہ واقعہ جہاں پر ہوا کچھ لوگ اسے تھر پارکر کا علاقہ قرار دے رہے ہیں، لیکن قارئین اس چیز سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایسے ظلم و ستم کے واقعات پورے پاکستان میں کہین نہ کہیں وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں اور ظالم اپنے ظلم کی طاقت دکھاتا رہتا ہے، اور ہمارا قانون روز یہ تماشا دیکھنے میں مصروف ہے،
ہمارے دیہی علاقوں میں اس طرح کا وڈیرا شاھی نظام ہمیشہ سے موجود رہا ہے، اور جو وڈیرہ شاھی بولے وہ ہی حقیقت پر مبنی ہوتا ہے، اور جس چیز پر وڈیرہ ہاتھ رکھ دے وہ اس کی ہو جاتی ہے، اور اگر کوئی اس طاقتور کے راستے میں آنے کی کوشش کرے گا تو اسے ہمیشہ کے لئے اپاہج بنا دیا جاتا ہے،
اگر طاقت کی علامت یہ لوگ جھکنے والے ہوتے تو وطن عزیز مساوات کے حوالے سے دنیا میں معیار نہ بن جاتا،
ان وڈیرہ شاھی لوگوں کے مشاغل میں دو چار چیزیں ہمیشہ نمایاں ہوتی ہیں، ایک وحشی قسم کے لوگوں کی جماعت ہمیشہ تیار رکھنا، جن سے کسی بھی وقت کوئی بھی کام لیا جا سکتا ہے، کسی کو مارنا ھو یا کسی کے گھر یا کاروبار کو تباہ کرنا ہو، مخالفین پر وار کرنا ہو یا کسی اپنے کو ہی راستے سے ہٹانا ہو، وڈیرہ شاھی کے یہ لوگ ہمیشہ تیار رہتے ہیں، اسی طرح قانون جو کہ عوام کا رکھوالہ ہوتا ہے، ایسے دیہی علاقوں میں ہمیشہ وڈیروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے، اور قانون کی بھی اس وڈیرہ شاھی کے آگے ایک نہیں چلتی،
اب آپ اگر غور کریں تو جس نوجوان نے لڑکی کو اس کی ماں کے سامنے سے اٹھا کر لے گیا، در حقیقت اس نے اپنی طاقت کا اظہار کیا ہے اور کوئی اس جنونی کو روکنے والا نہیں، اب بعد میں لڑکی زندہ ملے یا مردہ، وڈیرہ شاھی کو اس سے کوئی سروکار نہیں، کیونکہ طاقتور ہمیشہ دوسرے طاقتور سے ملا ہوتا ہے اور غریب کو ہمیشہ غلام سمجھا جاتا ہے اور یہ ہی یہاں کا اصول ہے،
حقیقت یہ ہے کہ سب طاقتور لوگ اپنے سے کمتر لوگوں کا زہنی استحصال کرتے ہیں، ہمارا قانون جب شاہ رُخ جتوئی جیسے وڈیروں کو آزادی کا پروانہ تھما دیں اور مقتول کے لواحقین روتے ہوئے اور اپنے آنسو چپھاتے ہوئے بولیں کہ ہم نے معاف کر دیا تو ظاھر ہے کہ طاقتور کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا، جب کوئی قانون کا پاسدار طاقتور بن جاتا ہے اور اپنی طاقت کے نشے میں معصوم انسانوں کو ناحق قتل کر دے، اور قانون کے ہوتے ہوئے بھی کوئی اس کا بال بھی بیکا نہ کر سکے، تو سمجھ آتی ہے کہ طاقت کے معنی کیا ہیں،
جب اوپر بیٹھے ہوئے لوگ اپنی طاقت دکھانے میں آتے ہیں تو پورا نظام مفلوج ہوتا ہے، کروڑوں روپے اپنی عیاشیوں پر اڑانے والے ان وڈیروں سے کوئی قانون، کوئی عدالت یہ نہیں پوچھ سکتی کہ یہ اتنا پیسہ آیا کہاں سے، بیرون ملک بڑی بڑی سرمایہ کاری کرنے والے اور بڑے بڑے جزیرے خریدنے والے ان وڈیروں سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ کہاں سے آیا یہ پیسا؟ نہیں، کیونکہ یہ سب وڈیرہ شاھی کا کھیل ہے،
قارئین اب سوال یہ ہے کہ اس وڈیرہ شاھی کو روکا کیسے جائے، تو اس کے لئے معاشرے کے اندر دانشور اور پڑھے لکھے نوجوانوں کو آگے آنا ھو گا، اور یہ ہی پڑھے لکھے نوجوان انشاءاللہ اس وڈیرہ شاھی کے نظام میں آخری کیل ثابت ہوں گے، کیونکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، اور جب اللہ کا قھر نازل ہوا تو دنیا نے بڑے بڑے فرعونوں اور وڈیروں کو زمین بوس ہوتے دیکھا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here