وادی زیارت: پر فضاء مقام اور قائداعظم ؒ کی آخری آرام گاہ۔ اصغر کریم

0
608

زیارت کوئٹہ سے 130 کلومیٹر کے فاصلے پر سطح سمندر سے 2449 میٹر بلند ایک پرفضا مقام ہے۔ ’’خرواریؒ بابا‘‘ کے نام سے مشہور بزرگ کے مزار کی وجہ سے اس پوری وادی کو زیارت کہتے ہیں۔ زیارت کی ایک وجہ شہرت یہ ہے کہ یہاں صنوبر کا بہت وسیع جنگل ہے۔ 12600 ایکڑ پر پھیلا یہ جنگل، دنیا کے قدیم جنگلات میں شمار ہوتا ہے، یہاں بعض درخت 5 ہزار سال پرانے ہیں۔ صنوبر کا درخت ایک قیمتی درخت ہے۔ یہ سال میں صرف ایک انچ بڑھتا ہے۔ اسی لئے حکومت نے ان درختوں کی کٹائی پر سخت پابندی لگا دی ہے اور جگہ جگہ اس حوالے سے بورڈ نظر آتے ہیں۔ زیارت کا پرفضا ماحول دراصل سطح سمندر سے بلندی کے ساتھ ساتھ ان جنگلات کا بھی مرہونِ منت ہے۔ اس حوالے سے بھی ان کی حفاظت ضروری ہے۔

زیارت کی ایک تاریخی حیثیت بھی ہے، وہ یہ کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں بسر کیے تھے۔ ان کی رہائش گاہ اب ’’قائد اعظم ریزیڈنسی‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ پچھلے دنوں شر پسند عناصر نے اسے آگ لگا دی تھی، تعمیر نو کے بعد اسے دوبارہ سیاّحوں کو لئے کھول دیا گیا ہے۔

زیارت کی سیاحت کا اصل موسم مئی تا ستمبر ہے، جب موسم معتدل ہوتا ہے، گو کہ ان مہینوں میں بھی رات کو سردی ہوتی ہے، چنانچہ گرم کپڑوں کا انتظام لازمی ہے۔ اگر آپ سخت سردی کی شدت کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو اکتوبر تا فروری کے مہینے میں برف باری کے دوران زیارت جائیں، اس لئے کہ تمام سیاح اس بات پر متفق ہیں کہ برف باری کے موسم میں پاکستان کا حسین ترین علاقہ ’’زیارت‘‘ کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس زمانے کے میدانوں سے لے کر پہاڑ کی چوٹیوں تک صنوبر کے اونچے درخت مکمل طور پر برف سے ڈھکے ہوئے ہوتے ہیں اور جب ان پر دھوپ پڑتی ہے تو ان کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے۔

زیارت پہنچنے کے لئے ہمیں پہلے صوبہ بلوچستان کے سب سے بڑے شہر اور صوبائی دارالحکومت کوئٹہ پہنچنا ہوگا۔ کوئٹہ پورے پاکستان سے ہوائی جہاز، ٹرین اور سڑک کے ذریعے منسلک ہے۔ اگر آپ کراچی سے عازم سفر ہیں تو بولان میل یا بلوچستان ایکسپریس ٹرین، سبی کے راستے کئی سرنگوں کو عبور کرتے ہوئے (جن میں پاکستان کی طویل ترین سرنگ کھوجک بھی شامل ہے) تقریباً 20 گھنٹے میں آپ کو کوئٹہ پہنچا دے گی اور اگر آپ براستہ سڑک کوئٹہ جانا چاہتے ہیں تو سبزی منڈی (پرانی) سے ایئرکنڈیشنڈ بسیں صبح و شام چلتی ہیں جو حب، خضدار اور قلات سے ہوتے ہوئے 10 سے 11 گھنٹے میں آپ کو کوئٹہ پہنچادیں گی۔ یہ راستہ شروع میں بنجر اور خشک پہاڑوں پر مشتمل ہے مگر خضدار کے بعد اور خصوصاً قلات کے مقام پر سیب، اخروٹ، خوبانی اور دوسرے پھلوں کے درختوں کی بہتات کی وجہ سے سرسبز اور خوبصورت ہوجاتا ہے۔ چلتن نیشنل پارک کے بعد اب کوئٹہ محض آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہے۔

کوئٹہ کی سیر کے بعد ہم اپنی اصل منزل زیارت کی طرف چلتے ہیں۔ زیارت جانے کے لئے کوئٹہ کے پشین اڈے سے کوسٹر اور بسیں صبح 6 سے سہ پہر 3 بجے تک وقفے وقفے سے چلتی رہتی ہیں۔ 130 کلومیٹر طویل یہ سفر دو سے ڈھائی گھنٹے میں طے ہوجاتا ہے۔ کوئٹہ سے آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی کچلاک پہنچے گی۔ یہاں سے یہ سڑک سیدھی پشین اور چمن کو جاتی ہے، جبکہ دائیں طرف مڑ جائیں تو یہ سڑک زیارت جاتی ہے اسی نسبت سے اسے زیارت روڈ کہتے ہیں۔ اس سڑک کی دونوں جانب وسیع علاقے میں پھیلے ہوئے سیب، اخروٹ، خوبانی اور انگور کے باغات ہیں اور ان پر سایہ فگن اونچے پہاڑ، ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں۔ سڑک پختہ اور ہموار ہے۔ ہر سال بعض مقامات پر بارش اور برف باری کے بعد برساتی نالوں کی وجہ سے چند مقامات پر سڑک بہہ جاتی ہے۔ ان مقامات پر اب پلوں کی تعمیر جاری ہے، جس کے بعد کوئٹہ زیارت روڈ پورا سال کھلا رہے گا۔

کچلاک سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد صنوبر کا جنگل شروع ہوجائے گا اور موسم میں خنکی کا احساس ہونے لگے گا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زیارت قریب ہے اور وہ ایک ٹھنڈا مقام ہے۔ اسی لئے مقامی لوگ اسے ’’ٹھنڈا زیارت‘‘ کہتے ہیں۔ کچھ فاصلے کے بعد ایک بڑے استقبالی دروازے (جسے ’’باب زیارت‘‘ کہتے ہیں) سے گزر کر ہم وادی زیارت میں داخل ہوجائیں گے۔

اب اپنے اطراف نظر دوڑائیں تو حد نگاہ تک صنوبر کے درخت اور ان کے درمیان چیکو، خوبانی، انگور، اخروٹ، سیب اور چیری وغیرہ کے باغات آپ کو خوش آمدید کہیں گے۔ زیارت کے پھل اپنی لذت کی وجہ سے ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ رستے میں مقامی باشندے بھیڑوں اور بکریوں کے ریوڑ چراتے ہوئے نظر آئیں گے۔

آپ کی گاڑی جب زیارت کے اکلوتے اور مختصر سے بازار میں داخل ہوگی تو آپ کی بائیں طرف سرکاری دفاتر اور دائیں طرف دکانیں، ہوٹل اور ریسٹورنٹ ہوں گے۔ جگہ جگہ کوئلے کی انگیٹھی پر چڑھی سجّی اور کڑاہی گوشت کی خوشبو آپ کی بھوک کو چمکا دے گی، یہی یہاں کی خاص ڈشیں ہیں۔ گاڑی جب اڈے پر رکے گی تو مختلف ہوٹلوں کے نمائندے آپ کو گھیر لیں گے۔ زیارت میں مناسب معاوضے پر ہوٹل میں کمرے بآسانی مل جاتے ہیں۔

زیارت کی مرکزی سڑک پر سیاح چہل قدمی کرتے نظر آئیں گے۔ یہی سڑک آگے مستونگ اور لورالائی جاتی ہے۔ سڑک کے ساتھ ساتھ مختلف لوگ چیری فروخت کرتے نظر آئیں گے، جو اس علاقے کا معروف اور مقبول پھل ہے۔ مزید آگے بڑھیں تو دائیں جانب ایک سڑک اونچائی کی جانب جاتی نظر آئے گی، اس پر جناح روڈ کا بورڈ لگا ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح سے موسوم یہ سڑک ’’قائد ریزیڈنسی‘‘ جاتی ہے۔ اسی سڑک پر آگے زیارت کے کئی سیاحتی مقامات ہیں جن کی سیر کیلئے گاڑیاں اور جیپیں عام ملتی ہیں۔ گاڑی مخصوص کروائیں اور جناح روڈ سے سفر کا آغاز کریں۔

اس سڑک کی ابتدا میں ’’جناح پارک‘‘ ہے۔ یہ پارک مقامی انتظامیہ کی توجہ کا منتظر ہے۔ یہاں سے مزید آگے گورنر ہاؤس، چیف منسٹر ہاؤس، چیف سکریٹری ہاؤس کے سامنے سے گزرتے ہوئے آپ قائداعظم ریزیڈنسی پہنچیں گے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے معالجوں کے مشورے سے اپنی زندگی کے آخری ایام اسی مقام پر گزارے تھے۔ قائد اعظم کی قیام گاہ کو ’’قومی یادگار‘‘ قرار دے دیا گیا ہے۔ یہاں قائد اعظم کا رہائشی کمرہ ہے جس میں ان کے زیر استعمال رہنے والی میز، پلنگ، کرسی وغیرہ موجود ہیں۔ ساتھ میں محترمہ فاطمہ جناح اور قائد اعظم کے معالج کا کمرہ ہے۔ ان کمروں میں قائد اعظم، محترمہ فاطمہ جناح اور تاریخ پاکستان سے وابستہ قائدین کی تصاویر بھی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

ریزیڈنسی کے سامنے ایک سرسبز اور سفید پارک ہے جو سیاحوں سے بھرا رہتا ہے۔ مقامی بزرگوں کے مطابق، قائد اعظم اپنی ہمشیرہ کے ساتھ روزانہ شام کو اس باغ میں سیر کیا کرتے تھے۔ ریزیڈنسی کی عمارت کو 1892ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ عمارت قدیم طرز تعمیر کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے، مگر سیاح اس کی سیر محض قائد اعظم سے تعلق کی بنا پر ہی کرتے ہیں۔ ریزیڈنسی صبح گیارہ بجے سے شام پانچ بجے تک سیاحوں کے لئے کھلی رہتی ہے۔ یہاں کچھ یادگار تصاویر بنائیں اور اگلی منزل کی طرف روانہ ہوں۔

مزید آگے ایک مختصر مگر خوبصورت پارک ’’جونیپر پارک‘‘ آتا ہے۔ یہاں ایک ریستوران بھی ہے۔ پارک کے ساتھ ہی ’’ہائیکنگ جناح پیک‘‘ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ اس بورڈ پر اگر ٹریک کی لمبائی، وقت سفر اور بلندی وغیرہ کا بھی ذکر کردیا جائے تو سیاحوں کو سہولت ہوگی۔ یہاں سے ایک قدیم روایتی ٹریک بابا خرواری کے مزار تک جاتا ہے، جو مقامی آبادی کے زیرِ استعمال ہے۔ اس کے کچھ حصے کو سیاحوں کی چہل قدمی کے لئے پختہ کردیا گیا ہے۔ اس مقام پر مزید آگے، زیارت شہر سے چھ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک سیاحتی مقام ’’پراسپیکٹ پوائنٹ‘‘ آتا ہے۔ یہ سطح سمندر سے 2713 میٹر بلند ہے۔ یہاں اکثر آپ بادلوں کو اپنے آس پاس دیکھیں گے۔ اس مقام سے زیارت کا سب سے خوبصورت اور بھرپور نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ نیچے دور تک پھیلی صنوبر کے درختوں سے گھری، بادلوں میں کبھی چھپتی کبھی دکھائی دیتی پیالہ نما وادی بہت بھلی لگتی ہے۔ اسی مقام سے وادی کی سب سے اونچی چوٹی ’’خلافت پیک‘‘ بھی نظر آتی ہے۔

پراسپیکٹ پوائنٹ کے بعد سڑک نیچے وادی کی طرف اترتی ہے۔ تین کلومیٹر کے سفر کے بعد بابا خرواریؒ کا مزار، جن کی نسبت سے وادی کا نام ’’زیارت‘‘ ہے، آتا ہے۔

اگر آپ کے پاس دن بھی مختصر ہیں اور بجٹ بھی محدود ہے تو سیاحت کیلئے زیارت سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here