عہد یوسفی کے ان مٹ نقوش

0
354

معروف مزاح نگارمشتاق احمد یوسفی کے بارے میں ایک شکایت کی جاتی ہے کہ ان کی تحریروں میں نسوانی کردار نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن ان کے ایک انٹرویو میں کی گئی بات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یوسفی کی ادبی شخصیت کے پیچھے دراصل ایک عورت ہی کا ہاتھ ہے:

‘میری والدہ بہت اچھی نقاد تھیں۔ جب میں اپنے ماضی میں جھانکتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ مجھ پر ان کا بہت اثر ہے۔ غالباً ان ہی کی حسِ مزاح، گہرے مشاہدے اور تلون مزاجی کا اثر ان کے بیٹے پر ہوا۔’

والدہ ہی کے زیرِ اثر انھوں نے لکھنا تو بچپن سے ہی شروع کر دیا تھا البتہ پہلی تحریر جو انھوں نے کسی ادبی رسالے کو بھیجی وہ ‘صنفِ لاغر’ نامی مضمون تھا جو انھوں نے 1955 میں ‘ادبِ لطیف’ کو ارسال کیا، تاہم اسے مدیر مرزا ادیب نے یہ کہہ کر لوٹا دیا کہ وہ اس کے مرکزی خیال سے متفق نہیں ہیں۔

صد شکر کہ یوسفی اس سے بددل نہیں ہوئے بلکہ انھوں نے یہی مضمون ترقی پسند رسالے ‘سویرا’ کو بھجوا دیا، جس کے مدیر حنیف رامے تھے۔ انھوں نے نہ صرف یہ مضمون اشاعت کے لیے قبول کر لیا بلکہ یوسفی کو مزید لکھنے پر بھی راغب کیا۔

یہ یوسفی کے ادبی کیریئر کا باقاعدہ آغاز تھا۔ ان کا پہلا مضمون اس قدر ہاتھوں ہاتھ لیا گیا کہ اس کے بعد انھوں نے یکے بعد دیگرے سویرا ہی کے لیے ‘چارپائی اور کلچر،’ ‘کرکٹ،’ اور ‘کاغذی ہے پیرہن’ لکھے جنھیں پڑھنے والوں نے اس قدر سراہا کہ انھوں نے دوسرے رسالوں مثلاً نصرت، افکار اور ادبی دنیا میں بھی لکھنا شروع کر دیا۔

چراغ تلے، 1961
چھ برس کے بعد یوسفی کے پاس اس قدر مواد جمع ہو گیا کہ انھوں نے 1961 میں اپنی پہلی کتاب ’چراغ تلے‘ چھپوا دی۔ اس کتاب میں کل 12 مضامین شامل ہیں جن میں سے آٹھ مضامین اس سے قبل مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے تھے جب کہ چار غیر مطبوعہ تھے۔

چراغ تلے جیسا مزاح اردو ادب کے لیے نئی چیز تھی۔ اس سے قبل وہ اس قسم کے مزاح کے عادی تھے جسے انگریزی میں سلیپ سٹِک کہا جاتا ہے۔ اس کی تعریف کچھ یوں بیان کی جا سکتی ہے جس میں کرداروں کی بےڈھنگی اور مبالغہ آمیز جسمانی حرکات و سکنات کی مدد سے مزاح پیدا کیا جاتا ہے۔ اردو میں میاں خوجی اور چچا چھکن کے نام اس کی واضح مثال ہیں۔ تاہم یوسفی کا مزاح عقلی اور فلسفیانہ تھا جس میں بات سے بات نکال کے بلکہ بعض اوقات بات کی کھال اتار کر کسی گہری معاشرتی مسئلے پر نئے زاویے سے یوں روشنی ڈالی جاتی ہے کہ لبوں پر بےاختیار مسکراہٹ نمودار ہو جاتی ہے۔ یوسفی کا مزاح قہقہہ آور نہیں بلکہ تبسم خیز ہوتا ہے، وہ گدگدیاں نہیں کرتے بلکہ چٹکی کاٹتے ہیں۔

ویسے تو چراغ تلے کا ہر مضمون اپنی مثال آپ ہے لیکن ‘چارپائی اور کلچر’ ‘یادش بخیریا’ اور ‘جنونِ لطیفہ’ اپنے عروج پر نظر آتے ہیں۔

خاکم بدہن، 1970
دلچسپ بات یہ ہے کہ یوسفی نے چراغ تلے کی اشاعت کے بعد رسائل میں لکھنا بند کر دیا۔ غالباً انھوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب صرف اپنی کتاب ہی کے لیے لکھا جائے۔ ان کا لکھنے کا ‘طریقۂ واردات’ بھی بڑا دلچسپ ہے۔ وہ لکھ کر تحریر کو سالہاسال کے لیے الگ رکھ دیتے تھے۔ پھر جب اس سے خاطر خواہ فاصلہ پیدا ہو جاتا تب اسے نکال کر سخت ناقدانہ نظر سے دیکھتے اور اگر اس میں کوئی خامی نظر آتی تو اسے بڑی بےرحمی سے چھانٹ کر الگ کر دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ خاکم بدہن چراغ تلے کے نو برس بعد شائع ہوئی۔ اس کتاب میں یوسفی نے اپنا طرزِ تحریر کو مزید نتھار لیا تھا۔

اس کتاب کے اہم ترین مضامین ‘بارے آلو کا کچھ بیاں ہو جائے،’ ‘صبغے اینڈ سنز،’ ‘ہوئے مر کے ہم جو رسوا ‘ اور ‘بائی فوکل کلب’ ہیں۔ اس کتاب کو 1970 میں آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

زرگزشت، 1976
یوسفی کی اگلی کتاب نسبتاً جلد ہی آ گئی۔ یہ ایک قسم کی آپ بیتی ہے اور اس کا نام بھی انھوں نے اپنے بینکنگ کریئر کی مناسبت سے زر اور سرگزشت کو ملا کر بنایا ہے۔ یہاں پہلی دو کتابوں کے مقابلے میں یہ تبدیلی ملتی ہے کہ اس کے سب سے اہم کردار مرزا عبدالودود بیگ نہیں بلکہ انگریز بینک مینیجر اینڈرسن اور پٹھان کردار خان سیف الملوک خان ہیں۔

خاص طور پر ‘سبق یہ تھا پہلا کتابِ ربا کا’ میں اینڈرسن نے یوسفی سے جو انٹرویو لیا وہ خاصے کی چیز ہے۔

خاکم بدہن کی طرح اس کتاب کو بھی آدم جی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

آبِ گم، 1989
یوسفی 1979 میں ملک چھوڑ کر حسن عابدی کے قائم کردہ ادارے بی سی سی آئی سے منسلک ہو کر لندن جا بسے۔ شاید وہاں اس قدر مصروفیات پیش آئیں کہ اگلی کتاب کو چھپتے چھپتے 13 برس گزر گئے۔ تاہم دیر آید درست آید کے مصداق ہمارے خیال سے یہ ان کی بہترین کتاب ہے۔

آبِ گم کا مزاج ان کی دوسری کتابوں سے مختلف ہے۔ زرگزشت کی طرح اسے بھی ان کی آپ بیتی کہا جا سکتا ہے، بلکہ اسے ناول بھی کہا گیا ہے۔ تاہم ہر بڑی کتاب کی طرح یہ بھی اصناف کی حدبندیاں توڑتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ خود یوسفی نے کتاب کے دیباچے میں لکھا ہے کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ یہ فکشن ہے یا سچی واردات یا ان دونوں کا ملغوبہ ہے جسے آج کل فیکشن یعنی فیکٹ جمع فِکشن کہا جاتا ہے۔ ایک چینی دانا کا قول ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ بلی سفید ہے یا سیاہ۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ وہ چوہے پکڑ سکتی ہے یا نہیں۔

اس کتاب کے اہم ترین کردار بشارت اور ‘حویلی’ کی قبلہ ہیں، جب کہ ‘دھیرج گنج کا یادگار مشاعرہ’ اور ‘سکول ماسٹر کے خواب’ ایسی تحریریں ہیں جنھیں آسانی سے کسی خانے میں فٹ نہیں کیا جا سکتا۔

اس کتاب پر انھیں ہجر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس سے یقیناً آب گم کی پذیرائی ہوئی ہو گی، یہ الگ بات کہ آج یہ ایوارڈ اس کتاب کے نام سے جانا جاتا ہے۔

شامِ شعریاراں، 2014
آب گم کے بعد یوسفی صاحب نے لمبی چپ تان لی۔ جب ایک عرصے تک ان کی کوئی کتاب سامنے نہیں آئی تو لوگوں نے امیدوں بھی چھوڑ دیں۔ البتہ کبھی کبھی اطلاع ملتی رہی کہ شاید یوسفی صاحب چپکے چپکے ایک اور کتاب پر کام کر رہے ہیں۔

افتخار عارف نے ایک بار کہا کہ یوسفی صاحب نے گذشتہ عشروں میں سات سات سو صفحے کے دو سفرنامے، چار سو صفحے کا ایک ناول اور پتہ نہیں کیا کیا لکھ رکھا ہے، لیکن وہ انھیں شائع نہیں کروا رہے کہ ایک آدھ آنچ کی کسر ہے۔

اس لیے جب ربع صدی کے وقفے کے بعد شامِ شعریاراں شائع ہوئی تو یوسفی کے مداحین کی امیدیں ساتویں آسمان پر تھیں۔ لیکن جب کتاب آئی تو پڑھ کر سخت مایوسی ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ کوئی باقاعدہ کتاب تھی ہی نہیں بلکہ اس میں طرح طرح کے متفرق مضامین اکٹھے کر دیے گئے تھے۔ کالموں کے کسی مجموعے کی تقریبِ رونمائی میں تقریر کی ہے تو اسے بھی کتاب کی زینت بنا دیا، کسی مرحوم کی یاد میں تاثرات پیش کیے تو کتاب میں درج کر ڈالے، سالانہ مجلسِ ساداتِ امروہہ میں اظہارِ خیال کیا تو لگے ہاتھوں اسے بھی شامل کر دیا۔

اور پھر تکرار ایسی کہ خدا کی پناہ۔ کئی ایسی باتیں جو نصف صدی سے دوسری کتابوں میں کہتے چلے آئے تھے، انھی الفاظ میں اسی انداز سے یہاں بھی دہرا دیں۔ یہی نہیں بلکہ خود اسی کتاب کے مضامین میں بھی جگہ جگہ کسی ایسے پہاڑ کی سیر کا سماں ملتا ہے جہاں ایک بار صدا بلند کرنے کے بعد تادیر اس کی بازگشت ادھر ادھر سے گونج کر سماعت سے ٹکراتی رہتی ہے۔

لیکن اس سب باتوں کے باوجود کہیں کہیں سے وہی پرانا انداز اس طرح جھلک اٹھتا ہے کہ آس پاس کو چکاچوند کر کے رکھ دیتا ہے، اور قاری سب کچھ بھلا کر ‘یوسفی آخر یوسفی ہے’ کہہ اٹھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here