خواتین پرتشدد :انسداد کے لئے1800پولیس اہلکاروں کو تربیت دی گئی

0
339

خواتین کے خلاف گھریلو تشدد،کم عمر کی شادیوں اور صنفی امتیاز کے تدارک کی مہم سے 54 فیصد افراد کے رجحانات میں مثبت تبدیلی آئی۔ تنظیم ایکٹ انٹرنیشنل کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو سید مبشر بنوری نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں بتایا کہ خیبر پختونخوا کے چار اضلاع سوات، مردان، صوابی، نوشہرہ اور صوبہ سندھ کے دو اضلاع جامشورو اور حیدرآباد کے 31 دیہات میں یہ منصوبہ چار سال قبل شروع کیا گیا۔ جس کے تحت خواتین پر تشدد کی روک تھام، بچیوں کی کم عمری کی شادی، عورتوں کو وراثت کے حقوق کی فراہمی کیلئے منصوبہ بنایا گیا، جس کے تحٹ 19 ہزار خاندانوں کو آگہی دی گئی اور صنفی امتیاز کے خاتمے اور عورتوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے تربیت فراہم کی گئی۔

سید مبشر بنوری نے بتایا کہ بچیوں کی کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کیلئے علماء اور اساتذہ کے گروپس قائم کئے گئے، جبکہ خواتین کو وراثتی حقوق کی فراہمی کیلئے بھی خواتین، سکول کے اساتذہ اور پولیس افسران کی تربیت کی گئی۔
ایکٹ انٹرنیشنل کی چئیرپرسن، پروفیسر فرخندہ اورنگزیب نے بتایا کہ منصوبے کے اضلاع میں پولیس کے 1800 اہلکاروں کو خواتین پر تشدد کی روک تھام، ان کے حقوق کی حفاظت اور کم عمری کی شادیوں سے بچاوّ کی تربیت فراہم کی گئی۔ مجموعی طور پر 19 ہزار خاندانوں تک معلومات فراہم کی گئیں۔انہوں نے بتایا کہ جلد بلوچستان میں بھی اس پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here