وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے امریکی ریاست ٹیکساس کے ہائی اسکول میں فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والی طالبہ سبیکا کے گھر کا دورہ کیا اور ان کے والد سے تعزیت کی۔
اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ سبیکا پاکستان کی ہونہار طالبہ تھی، پوری قوم ان کی افسوس ناک موت پر سوگوار ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتہا پسندانہ رجحانات کسی ایک ملک یا خطے کا نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے، مسئلے پر قابو پانے کے لیے ان کے اسباب کے تدارک کی ضرورت ہے۔
گورنر سندھ محمد زبیر اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی سبیکا کے والد سے تعزیت کی۔
ادھر پاکستانی طالبہ کی نماز جنازہ شگرلینڈ شہر کی مسجد صابرین میں ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
سبیکا کے والد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ان کی بیٹی کی میت پیر تک کراچی پہنچے گی۔
امریکی میڈیا کے مطابق ٹیکساس میں قتل کا جرم کرنے والے 17 سال کے ملزم کو بھی بالغ تصور کیا جاتا ہے لیکن 2005 کے وفاقی قانون کے تحت دمیتری کو موت کی سزا نہیں دی جاسکتی۔
17 سالہ سبیکا عزیز شیخ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کینیڈی لوگریوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی اسکالر شپ پروگرام کے تحت گزشتہ برس 21 اگست کو 10 ماہ کے لیے امریکا گئی تھیں اور 9 جون کو انہیں وطن واپس آنا تھا۔
وہ ٹیکساس کے شہر سانتافی کے ایک ہائی اسکول میں زیر تعلیم تھیں، جہاں جمعہ (18 مئی) کو اسکول کے ہی ایک طالب علم کی فائرنگ سے وہ چل بسیں۔
فائرنگ کے نتیجے میں 9 طالب علموں اور ایک استاد سمیت 10 دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔















