قرنطینہ قوانین کی خلاف ورزی،جیل کی ہوا کھانی پڑگئی

0
127

نوبی کوریا میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث نافذ قرنطینہ قوانین کی خلاف ورزی پر ایک شخص کو چار ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ مشرق بعید کے اس ملک میں اس طرح کے کسی جرم میں کسی مجرم کو سزا سنائے جانے کا یہ اولین واقعہ ہے۔
فروری میں ہی سیئول حکومت نے ایسے قوانین متعارف کرا دیے تھے، جن کے تحت کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد مصدقہ اور ممکنہ متاثرین دونوں کے لیے لازمی کر دیا گیا تھا کہ وہ قرنطینہ میں ہی رہیں اور دیگر شہریوں کی زندگیاں خطرے میں نہ ڈالیں۔

تب ملکی پارلیمان نے یہ قانون بھی منظور کر لیا تھا کہ قرنطینہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شہری کو زیادہ سے زیادہ ایک سال تک قید کے علاوہ دس ملین وان یا آٹھ ہزار امریکی ڈلر کے برابر تک جرمانے کی سزا بھی سنائی جا سکتی تھی۔

جس جنوبی کوریائی شہری کو اب عدالت نے چار ماہ قید کی سزا سنائی ہے، اس کی عمر 27 برس ہے۔

اس نے کورونا وائرس کی وجہ سے 14 روز تک اپنے گھر پر ہی رہنے سے متعلق قرنطینہ قوانین کی دو مرتبہ خلاف ورزی کی تھی۔

ایک بار وہ اپنے گھر پر قیام کے دوران ‘حفاطتی قرنطینہ‘ سے باہر نکل آیا تھا اور دوسری مرتبہ جب اسے ایک قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا تھا، تو وہاں سے بھی وہ بلااجازت باہر نکل گیا تھا مگر دونوں ہی بار وہ پکڑا بھی گیا تھا۔ اپریل میں گرفتار کیے گئے اس ملزم کو عدالت نے سزا سناتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا، ”ملزم نے وبائی امراض کی روک تھام سے متعلق ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیگر شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔‘‘ استغاثہ نے ملزم نے کے لیے ایک سال قید کی زیادہ سے زیادہ سزا کا مطالبہ کیا تھا، تاہم عدالت نے اسے چار ماہ کی سزائے قید کا حکم سنایا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here