کٹاس راج اور بھگوان شیوا کے آنسو

0
603

کٹاس راج چکوال میں واقع ایک قدیمی ہندو مندر ہے۔ اس مندر کے تالاب کا پانی ہندوؤں کیلئے مذہبی اہمیت کا حامل ہے۔ تاہم اس مندر کے قریب واقع سیمنٹ فیکٹریوں نے اس کے قریب کھودے گئے کنووں کے ذریعے بڑی مقدار میں پانی حاصل کرنا شروع کر دیا تھا جس سے تالاب میں پانی کی سطح مسلسل گرتی گئی اور یہ خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ مندر کے تالاب کا پانی خشک ہو جائے گا۔

سپریم کورٹ نے اس کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

سماعت کے دوران دو بڑی سیمنٹ فیکٹریوں نے بتایا کہ وہ پانی کا متبادل ذریعہ تلاش کرنے تک بینک کے ذریعے دو ارب روپے کی گارنٹی دینے کیلئے تیار ہیں۔ اور وہ علاقے میں چھوٹا ڈیم تعمیر کریں گی جس کے پانی کو اس انداز سے منظم کیا جائے گا کہ وہ کٹاس راج مندر کے تالاب کو منفی طور پر متاثر نہ کرے۔ سیمنٹ فیکٹریوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے تک جو پانی استعمال کریں گی، اُس کی قیمت پنجاب حکومت کو باقاعدگی سے ادا کریں گی۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ مندر کے تالاب کو قدرتی طریقے سے بھرا جائے۔جس کے بعد عدالت نے کیس نمٹادیا۔

ہندو دیو مالا کے مطابق کٹاس راج مندر کا یہ تالاب بھگوان شیوا کی بیگم کے انتقال کے وقت اُن کی آنکھ سے گرنے والے آنسو سے بنا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ مہا بھارت کے ایک کردار بادشاہ پانڈو کے پانچ بیٹوں نے اپنی جلاوطنی کے 14 برس کٹاس راج میں گزارے تھے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مندر کم سے کم 2,300 سال پرانا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here