کاسنی شہزادی، شریر بچے اور زرافہ… تحریر، رومیسہ نظامی. جماعت سوم، بیکن ہاؤس سکول ایف سیون تھری اسلام آباد

0
1524

ایک تھا بادشاہ.! جس کی دو ننھی شہزادیاں تھیں،
ایک کا نام تھاگلابی شہزادی اور دوسری کا نام کاسنی شہزادی. دونوں شہزادیاں سیر کرنے چڑیا گھر گئیں اور مختلف جانوروں کو دیکھنے لگیں.وہاں ان کی بندر، بھالو، زیبرا، ہاتھی، بطخ، مور، شیر، اونٹ اور شتر مرغ سب سے ہی ملاقات ہوئی۔ چڑیا گھر میں ایک پنجرے کے سامنے بہت رش تھا جہاں کچھ شرارتی بچے، ایک جانور کا مذاق اڑا رہے اور پتھر مار کر بھاگ رہےتھے۔ اور وہ جانور زرافہ تھا! ۔ بچے کہہ رہے تھے کہ تم کتنے عجیب سے ہو۔ تمہاری ٹانگیں اور گردن بھی بہت لمبی ہے۔جبکہ جسم بھی عجیب سا ہے اور تم بچوں کو سیر بھی نہیں کراتے جبکہ اونٹ، گھوڑے اور ہاتھی تو خوب سیرکراتے ہیں۔اس لئے تم بے کار جانور ہو۔
بچوں کی یہ بات سن کرزرافہ اداس ہوگیا… گلابی اور کاسنی شہزادیاں بچوں کو سمجھانے لگیں کہ خدا نے کوئی چیز بے کار نہیں بنائی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ شرارتی بچے بڑے سے گول چکر والے جھولے میں بیٹھ کرجھولا جھولنے لگے.مگر اچانک جھولا رک گیااور ایک بڑا ساتار جھولے میں پھنس گیا. جھولا رکنے اس سے میں بیٹھے بچے بھی اوپر ہی لٹک گئے،اور انہوں نےرونا شروع کردیاں.یہ صورتحال دیکھ کر سب لوگوں نے مل کر جھولے میں پھنسے تار کو نکالنے کی کوشش شروع کردی.مسلہ مسلہ حل نہیں‌ ہوا.جس پر شرارتی بچوں کے والدین اوربھی پریشان ہو گئے اور خوب چیخ و پکار کرنے لگے. اتنے میں چڑیا گھر والے زرافہ کو بلالائے اور زرافہ اپنی لمبی گردن گھماکر جھولے کے اوپر لے گیا اور منہ میں پکڑ کر تار کو جھولے سے الگ کردیا.
یہ دیکھ کر سب خوش ہوگئے اور زرافے کے لیے تالیاں بجانے لگے۔شریر بچوں کے والدین زرافے کو پیار کیا جبکہ دونوں ننھی شہزادیوں نےبچوں کی مدد کرنے پرزرافے کا شکریہ ادا کیا.زرافے نے کس طرح ان کی مدد کی شریر بچے یہ دیکھ چکے تھے جس پر وہ شرارتی بچوں نے شرمندہ ہوکر اس سے معافی مانگی . شرارتی بچے کہنے لگے.” اچھے زرافےتم بڑے کام کے جانور ہو”۔ جس پرزرافہ نےانہیں معاف کردی اور ان کا دوست بن گیا.
بڑے سچ کہتے ہیں کہ خدا نے کوئی چیز بے کار پیدانہیں کی.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here