ڈالر 121 روپے کا ہوگیا

0
255

کستان میں ایک مرتبہ پھر روپے کی قدر میں کمی ہوئی ہے اور انٹر بینک میں امریکی ڈالر ملکی ’تاریخ کی بلند ترین سطح‘ 121 روپے پر پہنچ گیا ہے تاہم اوپن مارکیٹ میں ڈالر اب بھی 120 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

پیر کو سٹیٹ بینک کی جانب سے بینکوں کے مابین ڈالر کی لین طے دین کے لیے طے کردہ انٹر بینک نرخ میں اچانک اضافہ کر دیا گیا جس کے بعد انٹر بینک تبادلے میں ڈالر تقریباً چار روپے مہنگا ہو گیا اور اب بینک ڈالر 119 روپے میں خرید رہے ہیں اور انٹر بینک میں ڈالر 121 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 115 روپے 60 پیسے تھی جو اب بڑھ گئی ہے۔

انٹر بینک میں قیمت بڑھنے کے بعد اس کا اثر اوپن مارکیٹ میں بھی دیکھا گیا۔ فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے کہ پیر کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر 120 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ڈیلر 119 روپے ڈالر میں خرید رہے ہیں۔

اس سے پہلے گذشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر 118 روپے 50 پیسے میں فروخت ہو رہا تھا۔

ڈالر کیوں مہنگا ہو رہا ہے؟
پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے اور سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 10 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔

دوسری جانب جون میں حکومت کو قرضوں کی ادائیگیوں کی مد میں ساڑھے تین ارب سے چار ارب ڈالر کی اقساط دینی ہیں۔ ڈالر کی طلب و رسد میں کمی کی وجہ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بڑھی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 10 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدہے کے مطابق پاکستان کرنسی کی قدر میں بتدریج کمی کر رہا ہے۔

موجود نگراں حکومت میں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر ماضی میں اسٹیٹ بینک کی گورنر رہی ہیں اور اُن کے دور میں بھی ڈالر کی قیمت کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کیے جانے کے بجائے اوپن مارکیٹ میں طلب و رسد کی بنیاد پر قیمت طے کیے جانے پر زیادہ زور دیا گیا۔

’دو کشتیوں میں سوار نہیں ہونا‘
ایکسچینج کمپنیز آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ حکومت کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے کا شکوہ کرتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’اسٹیٹ بینک کے گورنر اور سینیئر اہلکاروں سے ہونے والے اجلاس میں ہمیں کہا جاتا ہے کہ روپے کی قدر میں مزید کمی نہیں کی جا رہی ہے لیکن پھر اچانک انٹر بینک مارکیٹ میں اچانک قیمت بڑھانے سے اوپن مارکیٹ متاثر ہوتی ہے۔‘

ظفر پراچہ نے کہا کہ ہمیں ایک پالیسی اپنانی چاہیے یا تو ڈالر کی قیمیت کو اسٹیٹ بینک ریگولیٹ کرے یا پھر اُسے اوپن مارکیٹ پر چھوڑ دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ہم دو کشتیوں میں سوار ہیں ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ ڈالر اوپن فلوٹ ہو وہیں دوسری طرف حکومت چاہتی ہے کہ کوئی ڈالر خرید کر باہر نہ لے کر جائے۔‘

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی فاریکس مارکیٹ میں یومیہ دس کروڑ ڈالر کی خریدو فروخت ہوتی ہے۔

طفر پراچہ کے مطابق حکومت کی جانب سے انٹر بینک ریٹ میں اچانک تبدیلی سے کرنسی کی قدر میں جان بوجھ کر کمی کے رجحانات کو تقویت ملتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here