جب پاکستان نے ایک کلو گرام کا سیٹلائٹ خلا میں بھیجا

0
795

اسلام آباد: پاکستان کا پہلا کیوب سیٹ سیٹیلائٹ آئی کیوب-1، انسٹیٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی نے تیار کیا تھا جسے ڈنیپر نامی راکٹ کے ذریعے روس سے لانچ کیا گیا تھا۔
اس کے ڈیزائن اور تیاری پر تقریباً پینتس لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی اور اسے مئی 2013 میں خلا میں بھیجا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ”اس وقت دنیا میں اختصار کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ کیوب سیٹ سیٹیلائٹ کو لانچ کرنے کے اخراجات بڑے سیٹیلائٹ کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں۔ یہ کم لاگت ریسرچرز کے لیے بہت ہی زیادہ پُرکشش ہے، جو اس طرح کے کیوب سیٹ کا تجربہ اپنی استطاعت کے مطابق کرسکتے ہیں اور یہی ٹیکنالوجی بعد میں بڑے سیٹیلائٹ میں شامل کی جاسکتی ہے۔“
کیوب سیٹ انتہائی مختصر سائز کا سیٹیلائٹ ہوتا ہے، جسے خلائی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر اس کا حجم ایک لیٹر (دس مربع سینٹی میٹر) اور اس کا وزن ایک کلو تینتس گرام سے زیادہ نہیں ہوتا۔

اس کیوب سیٹ سیٹیلائٹ سے مستقبل کے تجربات کے لیے ایک وسیع سلسلے کا آغاز ہوا، اس کیوب سیٹ کی کارگردگی کا دائرہ امیجنگ، مائیکرو گریویٹی، بایولوجی، نینو ٹیکنالوجی، اسپیس ڈائنامکس، کمیسٹری، اسپیس فزکس اور دیگر مختلف شعبوں تک وسیع ہے۔

انہوں نے آگاہ کیا کہ ”اس کے علاوہ اس کیوب سیٹ کو اس کے معیار کی جانچ کے طریقہ کار کو پاس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، جو تمام دوسرے سیٹیلائٹ کے لیے یکساں ہے، اس سے سیٹیلائٹ تیار کرنے والے کو اس سے بڑے سیٹیلائٹ کی تیاری اور لانچنگ کے لیے اعتماد ملتا ہے۔“

بیس فیکلٹی ممبرز اور پندرہ طالبعلموں پر مشتمل ایک ٹیم نے اس پروجیکٹ پر 2009ء میں کام کا آغاز کیا تھا جو 2013 میں مکمل ہوا۔

آئی کیوب-1 کو دو برس کے لئے مدار میں چھوڑا گیا جو زمین کے نچلے قطبی مدار کے ساتھ چھ سو کلومیٹر کی بلندی پر موجود رہا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here