نگران وفاقی کابینہ کے چھ وزراء نے حلف اٹھالیا

0
521

ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین نے نگران کابینہ سے حلف لیا جب کہ کابینہ میں شامل اراکین میں شمشاد اختر ، عبداللہ حسین ہارون، روشن خورشید برونچا، اعظم خان، سید علی ظفر اور محمد یوسف شیخ شامل ہیں۔

کابینہ ڈویژن کے نوٹیفیکشن کے مطابق عبداللہ حسین ہارون کو وزارت خارجہ اور نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کا قلمدان سونپا گیا ہے جبکہ ان کے پاس وزارتِ دفاع اور دفاعی پیداوار کا اضافی چارج بھی ہوگا۔محمد اعظم خان کو وزارتِ داخلہ، کیڈ، وزارتِ نارکوٹکس کنٹرول کا قلمدان دیا گیا ہے، جبکہ ان کے پاس وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کا اضافی چارج ہوگا۔
ڈاکٹر شمشاد اختر کو وزارتِ خزانہ، ریونیو اور اقتصادری امور، وزارتِ شماریات اور وزارتِ منصوبہ بندی و پلاننگ کا قلمدان سونپا گیا ہے جبکہ ان کے پاس تجارت و ٹیکسٹائل اور صنعت و پیداوار کا اضافی چارج ہوگا۔
بیرسٹر سید علی ظفر کے کو وزارتِ قانون وانصاف، وزارتِ پارلیمانی امور اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپا گیا ہے۔محمد یوسف شیخ کو تعلیم و تربیت کا قلمدان دیا گیا ہے جبکہ ان کے پاس وزارتِ صحت، وزارتِ مذہبی امور اور وزارتِ بین المذاہب ہم آہنگی کا اضافی چارج ہوگا۔روشن خورشید کو وزارتِ انسانی حقوق کے ساتھ ساتھ امور کشمیر و گلگت بلتستان اور سیفران کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

ڈاکٹر شمشاد اختر
نگران وفاقی کابینہ میں شامل ڈاکٹر شمشاد اختر 2006 سے 2009 اسٹیٹ بینک کی گورنر رہیں اور اس سے قبل وہ 2004 میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی ڈائریکٹر جنرل بھی رہیں۔

ڈاکٹر شمشاد اختر اقوام متحدہ میں انڈر سیکریٹری جنرل رہ چکی ہیں اور وہ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون کی سینئرمشیر بھی رہی ہیں۔

ڈاکٹرشمشاد اختر ورلڈ بینک کی نائب صدر، اقوام متحدہ میں سربراہ معاشی، معاشرتی کمیشن ایشیا پیسیفک بھی رہ چکی ہیں۔

حیدرآباد میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر شمشاد اختر نے قلیل مدت کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت کے پلاننگ ڈپارٹمنٹ میں بھی کام کیا۔

انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی اور 1987 میں ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف اکنامکس کی ویزیٹنگ فیلو بھی رہی ہیں۔

عبداللہ حسین ہارون:
نگران کابینہ میں شامل دوسرے وزیر عبدالله حسین ہارون اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب رہ چکے ہیں۔

عبداللہ حسین ہارون سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہے اور اپوزیشن لیڈر بھی رہ چکے ہیں جب کہ وہ سندھ اسمبلی میں چیئرمین قائمہ کمیٹی خزانہ اور قواعد و ضوابط بھی رہے ہیں۔

عبدالله حسین ہارون کا تعلق ہارون خاندان سے ہے، وہ سر عبدالله ہارون کے پوتے اور سعید ہارون کے بیٹے ہیں جن کی سماجی آزادی اور سیاسی حقوق کے لیے نمایاں خدمات ہیں۔

محمد اعظم:
نگراں وفاقی وزیر محمد اعظم خان ریٹائرڈ سینئر بیورو کریٹ ہیں اور وہ چیف سیکریٹری پختونخوا کے طور پر بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔

اعظم خان خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ اور منصوبہ بندی کے وزیر اور وفاقی سیکرٹری پٹرولیم اور مذہبی امور بھی رہ چکے ہیں۔

روشن خورشید:
بلوچستان سے تعلق رکھنے والی روشن خورشید بروچہ بھی وفاقی کابینہ میں شامل ہیں جو صوبے کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت ہیں۔

روشن خورشید بروچہ کا تعلق بلوچستان کے پارسی قبیلے سے ہے، جنہوں نے سوشل ورک میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

وہ پرویز مشرف دور حکومت میں 2000 سے 2002 تک صوبائی وزیرسوشل ویلفئیر رہیں اور 2003 سے 2006 تک بلوچستان سے سینیٹر بھی رہ چکی ہیں۔

روشن خورشید قومی کمیشن انسانی ترقی کی قائم مقام چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔

علی ظفر:
بیرسٹر علی ظفر ملک کے نمایاں ماہر قانون ہیں جو صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن بھی رہ چکے ہیں جنہیں سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر کیا۔

نگراں وفاقی وزیر بیرسٹر علی ظفر قانونی ماہرین میں الگ شناخت رکھتے ہیں جو ممتاز ماہر قانون ایس ایم ظفر کے صاحبزادے ہیں۔

شیخ محمد یوسف:
نگراں کابینہ میں شامل چھٹے وزیر شیخ محمد یوسف نے تمام زندگی تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دیں، وہ کیڈٹ کالج لاڑکانہ کے پرنسپل رہ چکے ہیں اور آرمی ایجوکیشن کور سے میجر ریٹائرڈ ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here