زمین ہی نہیں دور دراز کہکشاں میں بھی آکسیجن دریافت۔نئی تحقیق

0
561

ایک انتہائی دور کی کہکشاں پر آکسیجن کی موجودگی کے اشارے ملے ہیں۔ یہ کہکشاں بِگ بینگ (عظیم دھماکے) کے فقط ڈھائی سو ملین سال بعد وجود میں آنا شروع ہوئی تھی اور اس سے کائنات کی ابتدا سے متعلق اہم معلومات مل سکتی ہیں۔

ماہرین فلکیات کے مطابق کائناتی اعتبار سے ڈیڑھ سو ملین برس کا عرصہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا، اس لیے اس کہکشاں پر آکسیجن کی موجودگی کے اشارے یہ جاننے میں مدد دے سکتے ہیں کہ کائنات کی ابتدا کے باعث بننے والے عظیم دھماکے کے بعد اس کائنات کی ماہیت کیا تھی۔تحقیقی رپورٹ میں اب تک مشاہدہ کی جانے والی اس سب سے بعید کہکشاں کی تخلیق اور ترتیب سے متعلق مفصل تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ اس کہکشاں کو ایم اے سی ایس 1149 جے ڈی وی کا نام دیا گیا ہے اور یہ 13.8 ارب سال پہلے ہونے والے بِگ بینگ کے ساڑھے پانچ سو ملین سال بعد مکمل طور پر موجود تھی۔
محققین کے مطابق اس کہکشاں سے چلنے والی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں 13.28 ارب نوری سال لگے، جب کہ سائنس دان اس روشنی کے ذریعے اس کہکشاں کو دیکھنے کو ’ماضیِ انتہائی بعید‘ میں جھانکنے سے تعبیر بھی کرتے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ نوری سال کا مطلب روشنی کی رفتار سے (جسے آئن اسٹائن کے نظریہ اضافیت کے مطابق کائنات کی مطلق اور حد رفتار قرار دیا جاتا ہے) ایک برس میں طے کیا جانے والا فاصلہ ہوتا ہے، جو 9.5 ٹریلین کلومیٹر بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس رفتار سے چلنے والی روشنی تیرہ ارب سال سے زائد عرصے بعد زمین تک پہنچی۔
سائنس دانوں کے مطابق اس کہکشاں پر آکسیجن کی موجودگی کے اشارے ملنے سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ کائنات کی ابتدا کے بعد یہاں آکسیجن، کاربن اور نائٹروجن ہی سب سے پہلے بننے والے عناصر تھے اور ابتدائی ستاروں پر یہی عناصر موجود ہوتے تھے، تاہم بعد میں ان ابتدائی اور بڑے ستاروں کے پھٹنے (سپرنووا) کے بعد نئے اور بھاری عناصر تخلیق ہوئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here