نیوگنی کے ایک جزیرے پر پائی جانے والی مختلف چھپکلیوں کا خون سبز ہے اور یہ سوال سائنس دانوں کو پریشان کر رہا تھا کہ ان کے سبز خون کی وجوہات کیا ہیں۔ یعنی دنیا میں زیادہ تر جانوروں کا خون سرخ ہے، تو پھر ان چھپکلیوں کو لہو سبز کیوں ہے؟ ایک اور اہم سوال یہ تھا کہ ارتقا کے مراحل اس چھپکلی کے خون کو سبز رنگ اختیار کرنے تک کیوں لائے یا اس سے ان چھپکلیوں کی بقا کیوں وابستہ ہے یا اس کے فوائد کیا ہیں؟
ایسی چھپکلیوں کے ڈی این اے کی جانچ کے بعد سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خون کے سبز ہونے کی وجہ ان چھپکلیوں کے جسم میں ایک خاص زہریلے مادے بیلی وَیردِن کی زیادہ مقدار ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق اس عام سے سبز زہریلے مادے کی وجہ سے ممکنہ طور پر چھپکلیوں کا خون سبز ہوتا ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ڈی این اے کی مدد سےان چھپکلیوں کی ارتقائی تاریخ دھیرے دھیرے آشکار ہوتی جا رہی ہے۔ محققین کی جانب سے ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان کا تعلق ممکنہ طور پر شِنکس نامی چھپکلی کی قسم سے ہے اور ان تمام نے نیو گنی کے اس جزیرے پر چار مختلف ادوار میں ارتقائی نمو پائی۔
محققین کے مطابق اس چھپکلی کے جد امجد یقینی طور پر سرخ خون والے تھے، مگر ان سبز رنگ والی مختلف نوع کی چھپکلیوں کا آپس میں کوئی گہرا تعلق نہیں ہے۔ امریکا کی لوئزیانا یونیورسٹی کے میوزیم آف نیچرل سائنس سے وابستہ ارتقائی حیاتیات کے ماہر ذخاری روڈریگیز کے مطابق، ’’ان چھپکلیوں کا تعلق سرخ خون والے جانوروں ہی کے اجداد سے ہے اور سبز خون ان مختلف چھپکلیوں میں آزادانہ اور علیحدہ ارتقائی عمل کے ذریعے پیدا ہوا، جس مطلب ہے کہ خون کی سبز رنگت ان چھپکلیوں کے لیے ’فائدہ مند خصوصیت‘ کی حامل ہو گی۔‘‘
لوئزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی ہی سے تعلق رکھنے والے کرسٹوفر آسٹن کے مطابق، ’’سبز مادے بیلی وَیردِن کا انتہائی ارتکاز خون کے سرخ خلیوں کو سبز رنگ میں ڈھال دیتا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہلکا سبز رنگ خون کے علاوہ پٹھوں، ہڈیوں اور بافتوں تک میں دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘















