زمین پر چار ارب سال پہلے بھی زندگی موجود تھی۔نئی تحقیق

0
1042

سائنسدانوں کے مطابق انہیں اربوں سال پہلے زمین پر زندگی کی موجودگی سے متعلق نئے براہ راست اور ٹھوس شواہد مل گئے ہیں۔ یہ ثبوت کینیڈا میں خلیج ہڈسن کے علاقے سے سمندر کی تہہ میں انتہائی قدیم حیاتیاتی باقیات سے ملے ہیں۔

سائنسی جریدے ’نیچر‘ میں شائع ہونے والے ان تحقیقی نتائج کے مطابق ماہرین کو کینیڈا میں خلیج ہڈسن کے علاقے میں ایک سمندری معدنی چٹان سے ایسی مائیکروسکوپک ٹیوبیں اور حیاتیاتی اجزاء کی باقیات ملی ہیں، جو اس بات کا پتہ دیتی ہیں کہ زمین پر کم از کم بھی قریب تین ارب 77 کروڑ برس قبل بھی زندگی موجود تھی۔
اس جریدے کے مطابق یہ مائیکروفوسلز دراصل بیکٹیریا کی طرح کے یک خلیاتی مائیکروبز کی ایسی انتہائی قدیم باقیات ہیں، جو اربوں سال گزر جانے کے نتیجے میں اب تک معدنی شکل اختیار کر چکی ہیں اور اب نامیاتی چٹانی شکل میں سمندر کی تہہ میں پائی جاتی ہیں۔
ڈی پی اے کے مطابق سائنسدانوں کو اس سے قبل کبھی ایسے کوئی اربوں سال پرانے ٹھوس شواہد نہیں ملے تھے کہ اپنی قدیم سے قدیم ترین حالت میں بھی زمین پر زندگی کس وقت موجود تھی۔ یہ 3.77 بلین سال پرانے مائیکروفوسلز ایسے بیکٹریا کی وجہ سے بنے، جو سمندر کی تہہ میں ہائیڈرو تھرمل خطوں میں لوہے کے مختلف ایٹموں پر گزارہ کرتے ہوئے زندہ رہتے تھے۔
ان مائیکروفوسلز کی موٹائی ایک عام انسانی بال کی موٹائی سی بھی کم بنتی ہے اور محققین کے بقول یہ 3.77 بلین سال سے لے کر 4.3 بلین سال تک پرانے ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل زمین پر انسانی زندگی کے قدیم ترین شواہد کے طور پر جو مائیکروفوسلز ملے تھے، وہ زیادہ سے زیادہ بھی 3.46 بلین سال پرانے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here