پاکستان میں پانی کی قلت اور جرمن سفیر کی پریشانی

0
398

پاکستان میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر کئی ہزار مرتبہ شیئر کی جاچکی ہے۔ اس تصویر میں وہ اسلام آباد کی ’خشک‘ راول جھیل میں موجود ہیں۔
اس تصویر کے ساتھ جرمن سفیر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں لکھا،’’سارا پانی کہاں گیا؟ میں نے اسلام آباد میں راول جھیل کا دورہ کیا تاکہ پانی کی قلت کے حالات دیکھ سکوں۔ حیران کن منظر! ایک حصہ جھیل کم اور صحرا زیادہ لگ رہا تھا.. امید ہے کہ مون سون موسم جلد بارشیں لائے گا جس کی اشد ضرورت ہے۔‘‘

مارٹن کوبلر کی اس ٹویٹ پر انہیں پاکستانی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے سینکڑوں جوابات موصول ہوئے۔ ٹوئٹر صارف روبینی نے لکھا،’’ جرمن سفیر آپ اپنے ملک کے ماہرین کو پاکستان مدعو کیجیے تاکہ وہ پاکستان میں پانی کے بحران کو کم کرنے میں مدد فراہم کر سکیں۔‘‘

عمر شیخ نے مارٹن کوبلر کو ان کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا،’’ ہمیں مارٹن کوبلر کو پاکستان کا سفیر بنا دینا چاہیے۔‘‘ کوبلر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں انگریزی اور اردو زبان میں ٹویٹ کرتے ہیں۔ وہ اکثر عوامی مقامات پر بھی چلے جاتے ہیں اور پاکستانی عوام سے براہ راست ٹوئٹر کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں۔

عماد اکرم شیخ نے جرمن سفیر کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا،’’مسٹر کوبلر پاکستان میں پانی کے بحران کو منظر عام پر لانے کا بہت شکریہ، ہمیں آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اس مسئلے کو اجاگر کرنے اور اس کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔

ٹوئٹر صارف تنویر عارف نے لکھا،’’ پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، ہمیں زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے،پاکستان کے کافی علاقوں میں سیم اور تھور کا بھی مسئلہ ہے۔‘‘

احمد ایوب نے لکھا،’’ بدقسمتی سے ہم پاکستانی عوام میں جنگلات اور درختوں کے حوالے سے آگاہی پیدا نہیں کر پائے۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں نےڈیمز کی تعمیرمیں بھی دلچسپی نہیں لی۔‘‘

مارٹن کوبلر نے کچھ عرصہ قبل ایک ٹویٹ میں اپنی صبح کے وقت دانت برش کرتے ہوئے تصویر بھی شیئر کی تھی جس میں وہ ایک گلاس میں ڈالا گیا پانی استعمال کر رہے تھے۔ وہ اکثر پانی اور ماحولیات سے متعلق ٹویٹس کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here