انسان اکیلا یا کائنات میں کوئی اور بھی ہے ۔جدید تحقیق

0
580

انسان نہ جانے کب سے اپنے جیسی کسی دوسری دنیا کی مخلوق کی تلاش کر رہا ہے۔ سائنسداں زمین سے ریڈیائی لہریں بھیج کر دوسری دنیا کی مخلوق سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن اب تک دوسری دنیا کی کسی مخلوق نے کسی بھی انسانی پیغام کا جواب نہیں دیا ہے۔
دوسری دنیا کی مخلوق انسانی پیغامات کا جواب کیوں نہیں دیتیں؟ وہ کہاں ہیں؟ ہیں بھی یا نہیں؟
‘وہ کہاں ہیں؟’
یہ سوال معروف ماہر طبیعات اینرکو فرمی نے سنہ 1950 میں اپنے ایک ساتھی سے پوچھا تھا۔
فرمی کا خیال تھا کہ انسانوں جیسی بہت سی ذہین تہذیبیں اس کائنات میں مختلف سیاروں پر موجود ہیں۔
لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر وہ ہیں تو ان سے ہمارا رابطہ کیوں نہیں؟ آخر وہ کہاں ہیں؟
سوال بہت مشہور ہوا اور اس پیدا ہونے والے اختلافات کو ‘فرمی پیراڈاکس’ کے طور پر جانا جاتا ہے۔

سائنسداں اینریکو فرمی کے تصور کو فرمی تضاد کے نام سے جانا جاتا ہے
ایس ای ٹی آئي (سیٹی) یعنی ‘سرچ فار اکسٹرا ٹریسٹریئل انٹیلیجنس’ نامی ادارہ کئی سالوں سے اس کا جواب تلاش کرنے میں مصروف ہے۔
ہماری کہکشاں میں خود کم از کم 100 ارب ستارے ہیں۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے تین ماہرین نے حال ہی میں از سر نو متضاد فرمی پیراڈاکس جائزہ لیا ہے۔
انھوں نے اس مطالعے کا نام ’ڈزالونگ دی فرمی پیراڈاکس‘ یعنی فرمی تضاد کا حل رکھا ہے۔
مطالعہ میں کہا گیا ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ انسان اس کائنات میں واحد ذہین مخلوق ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایلیئن کی موجودگی محض خیال خام ہے۔
اس نتیجے تک کس طرح پہنچے؟
اس مطالعے کے تین ماہرین میں سے ایک اینڈرس سینڈبرگ ہیں جو آکسفورڈ یونیورسٹی میں فیوچر آف ہیومنیٹی انسٹیٹیوٹ کے ریسرچر ہیں۔
دوسرے سائنسدان ایرک ڈیکسلر ہیں جنھیں ان کی نینو ٹکنالوجی تصور کے لیے جانا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اسی شعبے میں فلسفے کے پروفیسر ٹاڈ اورڈ ہیں۔
صرف ہماری کہکشاں یعنی آکاش گنگا میں ہی 100 ارب سے زیادہ ستارے ہیں
اس نئے مطالعہ میں فرمی پیراڈاکس کا ریاضی اصولوں کی بنیاد پر تجزیہ کیا گیا ہے جسے ڈریک ایکوئیشن کہا جاتا ہے۔
ڈریک اصول کا پہلے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس میں ان ممکنہ مقامات کی فہرست تیار کی جاتی تھی جہاں زندگی ہوسکتی ہے۔
مطالعہ میں زندگی سے منسلک بہت سے پہلوؤں کی جانچ پڑتال کے بعد یہ پایا گیا کہ 39 فیصد سے 85 فیصد امکانات ہیں کہ انسان کائنات میں واحد ذہین مخلوق ہے۔
تحقیق میں لکھا گیا: ‘ہم نے تحقیق میں یہ پایا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ کائنات میں کوئی دوسری ذہین تہذیب نہیں ہے۔ ایسے میں اگر ہمیں کوئی اشارہ نہیں ملتا، تو ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔ اس قدر غیر یقینی صورتحال کی بنیاد پر ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہمارے تنہا ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔’
بہر حال ان محققین کا یہ بھی خیال ہے کہ سائنسدانوں کو دوسری دنیا میں زندگی اور دوسری دنیا کی مخلوق یا ایلیئنز کی تلاش جاری رکھنا چاہیے۔
سینڈ برگ کہتے ہیں کہ ایلیئنز کے امکانات کم ہونے کے باوجود اگر ہمیں مستقبل میں کبھی یہ پتہ چلے کہ کہیں کوئی ذہین ایلیئن تہذیب ہے تو بھی ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے۔’
یعنی بہ الفاظ دیگر فرمی تضاد کا حل اتنا آسان بھی نہیں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here