انسانی جین میں رد و بدل اورہزاروں سال تک معلومات محفوظ رکھنے کے کامیاب تجربات

0
943

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سائسندان تجربات کررہے ہیں جس کے تحت انسانی جینز میں رد و بدل کرکے ان میں معلومات محفوظ کی جا سکیں گی۔ڈیٹا محفوظ کرنے کے موجودہ طریقوں کی نسبت مصنوعی ڈی این اے میں بہت زیادہ معلومات محفوظ کی جاسکیں گی، جو ہزاروں سال تک محفوظ رکھی جا سکتی ہیں

تجربات میں مصروف سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مشینیں حیاتیات میں ایسی چیزیں دیکھ سکتی ہیں جو انسان کبھی نہیں دیکھ سکا۔ مشین کمپیوٹر کی مدد سے ایسے تجربات کر سکتی ہے جن میں انسانی جین میں رد و بدل کیا جاسکتا ہے، ان میں بننے والے کیمیکلز طاقتور مواد بنا

ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسے ہی خودکار طریقوں اور مشینوں کی مدد سے ایک خلیے پر مشتمل خوردبینی جرثوموں کو مستقبل کی کیمیکل فیکٹریز بنانے پر کام کررہے ہیں، جس میں زیادہ تر کام زرعی کمپنیوں کے لیے کیمیکلز اور دیگر مواد کا ہے۔ اس کے ذریعے وہ فصلوں کی حفاظت کرنے والی ادویات کو زیادہ موثر بنانے پر بھی کام کر سکتے ہیں۔

سائسندان اور ماہر اعصاب، ووین منگ کا کہنا ہے کہ اسے طریقے کو استعمال کرکے خوردبینی جرثوموں کی بجائے انسانی دماغ کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول، ’’میں انسانی ذہن کو مصنوعی آلات فراہم کرنے کی بات کر رہی ہوں۔ کیا میں آپ کے دماغ میں کسی چیز کا اضافہ کرکے آپ کو ذہین بنا سکتی ہوں؟ آپ ایک لمحے میں کسی بھی چیز کے بارے میں کتنا سوچ سکتے ہیں اس پر کتنی توجہ اور توانائی لگا سکتے ہیں؟ ہم اس کارکردگی میں پندرہ فیصد تک اضافہ کرسکتے ہیں‘‘۔

دنیا بھر میں دماغ کو مصنوعی طور پر متحرک کرنے کے بارے میں تحقیق کی جا رہی ہے، جس سے ممکن ہے کہ دماغ کی cognitive یعنی سمجھنے کی صلاحیت میں اضافہ بھی کیا جا سکے۔سکیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here