پاکستان ہجرت کرنے والے پرندے کیوں روٹھ رہے ہیں

0
1211

بین الاقوامی سطح پر نقل مکانی کرنے والے سینکڑوں اقسام کے کروڑوں پرندوں کے دو اہم فضائی راستے پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں لیکن پاکستان ان پرندوں کے لیے ماضی کے مقابلے میں اب ایک مسلسل ’غیر محفوظ‘ جنت بنتا جا رہا ہے۔

پرندوں کی حفاظت اور ان سے متعلق تحقیق کرنے والی عالمی تنظیم برڈ لائف انٹرنیشنل کے مطابق ہر سال انتہائی شدید موسم سے بچ کر بین الاقوامی سطح پر نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے دو انتہائی اہم فضائی راستے، وسطی ایشیا سے مشرقی ایشیا تک اور وسطی ایشیا سے مشرقی افریقہ تک، پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں۔ ان راستوں یا فلائی ویز کو استعمال کرنے والے پرندوں  کی موجودہ تعداد ماضی کے مقابلے میں کم ہو چکی ہے، جس کی بڑی وجوہات موسمیاتی تبدیلیاں، کم ہوتے ہوئے سرسبز علاقے، آبی خطوں یا واٹر باڈیز کا کم ہوتا جانا اور ایسے پرندوں کا بے تحاشا غیر قانونی شکار ہیں۔

پاکستان کا رخ کرنے والے یا پاکستان سے ہو کر گزرنے والے  پرندوں میں سے بہت سے سائبیریا یا دیگر سخت سردی والے علاقوں سے بھی آتے ہیں۔ یہ کروڑوں پرندے ہر سال ایک محدود عرصے کے لیے پاکستانی جھیلوں اور ڈیموں کے کنارے یا پھر ان گیلے سرسبز خطوں میں قیام کرتے ہیں، جنہیں ماہرین ویٹ لینڈز کا نام دیتے ہیں۔

 ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ یا ڈبلیو ڈبلیو ایف کےکنزوریشن کوآرڈینیٹر محمد وسیم کا کہنا تھاکہ’’پاکستان میں پرندوں کی داخلی نقل مکانی بھی دیکھنے میں آتی ہے اور بین الاقوامی ہجرت بھی۔ گرم خطوں کا رخ کرنے والے پرندے پاکستان میں شمال سے لے کر دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ نیچے تک گیلی سرسبز زمینوں، جھیلوں کے کنارے یا ڈیموں والے علاقوں میں قیام کرتے ہیں۔‘‘

پاکستان بین الاقوامی ہجرت کرنے والے پرندوں کے جس وسطی ایشیائی فضائی راستے میں پڑتا ہے، وہ مجموعی طور پر تیس  ممالک سے ہو کر گزرتا ہے۔ تقریبا ایک چوتھائی صدی پہلے پاکستان میں قریب چھ سو ستر اقسام کے پرندے پائے جاتے تھے،  جن میں سے تیس فیصد کے قریب وہ مہمان پرندے ہوتے تھے، جوسردیوں میں پاکستان کا رخ کرتے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here