کرونا ویکسین پاکستان میں منفی 70پر کیسے محفوظ کی جائے گی۔؟

0
165

حکومت پاکستان نے کرونا وائرس کے خلاف قوت مدافعت بڑھانے کی ویکسین کے حصول اور اسے ذخیرہ کرنے کے لئے کوششیں تیز کردیں جس کے تحت فائزر ویکسین محفوظ کرنے کے لیے 21 جدید ریفریجریٹرز خریدنے کا فیصلہ کرلیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان کو کوویکس کی طرف سے فائزر ویکسین جلد مل جائے گی جسے کم از کم منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ پر محفوظ کرنا ضروری ہے۔ جو جدید ریفریجریٹرزحاصل کئے جارہے ہیں ان میں فائزر کرونا ویکسین ذخیرہ کی جائے گی اور یہ ریفریجریٹرز منفی 70 سینٹی گریڈ پر ویکسین اسٹوریج کے حامل ہوں گے، اس وقت پاکستان کے پاس ویکسین محفوظ کرنے کی استطاعت منفی 20 سینٹی گریڈ پر اسٹوریج کا حامل ہے جبکہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے معمر افراد کو مارچ سے کرونا سے محفوظ رکھنے کی ویکسین فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے سربراہ اسد عمر کا ٹوئٹر پیغام میں اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کورونا ویکسین کی رجسٹریشن شروع کردی گئی ہے۔جس کے لئےشناختی کارڈ نمبر لکھ کر1166 پر میسیج کیا جاسکتا ہے۔اس مرحلہ میں 65 برس اور زائد عمر افراد کو کورونا ویکسین فراہم کی جائے گی جس کا آغاز مارچ میں ہوگا۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں 60 سال سے زائد عمر افراد کی تعداد تقریباً 85 لاکھ ہے جنہیں برطانوی ویکسین ایسٹرازینیکا لگائی جائے گی ،بزرگ افراد کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اس لئے ترجیح دی جارہی ہے کیونکہ کرونا بزرگوں کی بیماری ہے اور اب تک سب سے زیادہ اموات بزرگ افراد کی ہی ہوئی ہیں۔مارچ میں ابتدائی طور پر برطانوی ویکسین کی چند لاکھ خوراکیں موصول ہوجائیں گی جبکہ جون تک اس ویکسین کی 1 کروڑ 70 لاکھ خوراکیں ملیں گی،ہر شخص کو اس ویکسین کی دو ،دو خوراکیں لگائی جائیں گی۔چین سے موصول کووڈ 19 ویکسین ملک بھر کے صحت ورکرز، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو لگائی جارہی ہے، ماہرین طب کے مطابق اس ویکسین کی افادیت 79 سے 86 فیصد ہے۔پاکستان میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ ) نے چینی ویکسین سائنس فارم کے بعد دوسری چینی ویکسین کینسائنو کے استعمال کی بھی اجازت دے دی گئی ۔کینسائنو ایسی ویکسین ہے جس کی دوسری ویکسین کی طرح دو کی بجائے ایک خوراک کی فراہمی ہی کافی ہوگی۔

چینی کمپنی نے پاکستان میں 18 ہزار شہریوں پر “کین سائینو” ویکسین کے ٹرائل کئے۔یہ ویکسین صرف منفی2 تا 8 سینٹی گریڈ پر ذخیرہ کی جا سکے گی۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ چینی کمپنی نے کورونا ویکسین کے ہنگامی استعمال کی اجازت مانگی تھی،ویکسین کین سائینو کی رجسٹریشن کیلئے ڈریپ کو دی گئی درخواست کے ہمراہ اس ویکسین کےکلینیکل ٹرائلز فیز تھری کاڈیٹا جمع کرایا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں کورونا ویکسین کےکلینیکل ٹرائلز کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 18ہزار پاکستانی کین سائینو کے فیز تھری ٹرائلز کا حصہ بنے تھے،اس ویکسین کے کلینیکل ٹرائلز کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے۔کلینیکل ٹرائلز کے نتائج کے مطابق یہ ویکسین محفوظ اورموثر پائی گئی۔سرکاری ذرائع کے مطابق ڈریپ کے رجسٹریشن بورڈ نےکین سائینو کی درخواست کی منظوری دی۔کین سائینو نے یہ ویکسین چینی ملٹری میڈیکل سائنسز اکیڈمی کے تعاون سے تیار کی ہے۔کین سائینو ویکسین کے عالمی ٹرائلز میں 40 ہزار رضاکار شریک ہوئے اور اس کےٹرائلز تین براعظم،5 ممالک میں 78 مقامات پر منعقد ہوئے تھے۔ان ملکوں میں پاکستان، روس، میکسیکو، چلی اور ارجنٹینا بھی شامل تھے۔ذرائع نے بتایا کہ کین سائینو کو پاکستان میں کلینیکل ٹرائلز کی اجازت اگست 2020 میں ملی تھی اور ٹرائلز کا آغاز ستمبر 2020 میں ہوا تھا، لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ویکسین فیز تھری کے کلینیکل ٹرائلز پانچ ماہ جاری رہے تھے۔ذرائع وزارت صحت کے مطابق کین سائینو ویکسین کی قیمت پانچ ڈالر سے کم ہو گی اور اسے صرف منفی دو تا آٹھ درجہ حرارت پر زخیرہ کیا جاسکے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here