سی سی پی او لاہور اور دیگر افسران کی پروموشن کی درخواستیں مسترد

0
487

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ سمیت متعدد اعلیٰ سرکاری افسران کی اگلے گریڈ میں پروموشن کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

سی سی پی او عمر شیخ سمیت متعدد بیووکریٹس نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں دائر کرتے ہوئے اگلے گریڈ میں ترقی دینے کی استدعا کی تھی۔ درخواست گزار افسران میں ایف بی آر، کسٹمز، پولیس اور سنٹرل بورڈ آف ریونیو کے افسران شامل ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی طرف سے متعدد بیورو کریٹس کو اگلے گریڈ میں ترقی نہ دینے کے خلاف دائر درخواستوں پر منگل کو مختصر فیصلہ سنایا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارشات کو درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سول سرونٹ پروموشن رولز 2019 درست انداز میں فریم کیے گئے ہیں۔

عدالت نے سول سرونٹ پروموشن رولز 2019 کے خلاف درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ سنٹرل سلیکشن بورڈ کی پروموشن سے متعلق سفارشات غیر جانبدارانہ اور غیر متعصب ہیں۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں گریڈ 20 کے افسران کو اگلے گریڈ میں ترقی دینے کی منظوری دیتے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے سلیکشن بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں ہی سی سی پی او لاہور عمر شیخ سمیت متعدد بیوروکریٹس کی اگلے گریڈ میں ترقی روک دی تھی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ اس وقت گریڈ 20 کے افسر ہیں اور ان کی اگلے گریڈ میں ترقی کے بارے میں خفیہ اداروں کی طرف سے جو رپورٹس دی گئی تھیں وہ تسلی بخش نہیں تھیں۔

سی سی پی او کی اگلے گریڈ میں ترقی کے بارے میں متعدد اعلیٰ پولیس افسران سے بھی رائے طلب کی گئی تھی جو مثبت نہیں تھی۔

ان پولیس افسران میں سابق آئی جی پنجاب پولیس شعیب دستگیر بھی شامل ہیں اور پولیس ذرائع کے مطابق سابق آئی جی پنجاب خفیہ اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں مذکورہ پولیس افسر کی بطور سی سی پی او لاہور تعیناتی پر خوش نہیں تھے۔
بشکریہ۔ بی بی سی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here