پینٹنگ کے لئے بلٹ پروف شیشہ اور دو کروڑ کا خرچ

0
252

روس کےعظیم مصور کی شہرہ آفاق آئل پینٹنگ کی حفاظت کے لیے اب بلٹ پروف شیشہ لگایا جائے گا۔ اس پینٹنگ کو حال ہی میں ایک شخص نے آہنی سلاخ کے ساتھ شدید نقصان پہنچایا تھا۔

مشہور عالم آئل پینٹنگ، جو ماسکو کے تریتیاکوف گیلری نامی میوزیم میں رکھی ہوئی ہے، اِیلیا ریپِن نامی مصور نے بنائی تھی۔ اِیلیا ریپِن نے، جو 1844ء میں پیدا ہوئے تھے اور جن کا انتقال 1930ء میں ہوا تھا، یہ پینٹنگ اپنے فنی تخلیقی دور کے نقطہ عروج پر بنائی تھی۔
اس پینٹنگ کو گزشتہ ہفتے کے دوران، جمعہ 25 مئی کے روز ایک 37 سالہ روسی نوجوان نے، جو برے طرح نشے کی حالت میں تھا، شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اس ملزم کا تعلق جنوبی روس کے شہر وورونَیش سے ہے اور اس نے پولیس کو بتایا کہ اسے یہ پینٹنگ دیکھتے ہی شدید غصہ آ گیا تھا اور اسی لیے اس نے ایک آہنی سلاخ کئی بار اس فن پارے پر دے ماری تھی۔
ووڈکا کے نشے میں دھت اس روسی شہری کی طرف سے یکدم اس پینٹنگ پر جس غصے اور زار ایوان کے لیے جس نفرت کا اظہار کیا گیا تھا، اس کے نتیجے میں اس فنی شاہکار کا کینوس کم از کم تین جگہ سے پھٹ گیا تھا۔ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا اور اسے عدالت کی طرف سے تین سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ماسکو کی تریتیاکوف گیلری کی خاتون ڈائریکٹر سیلفیرا تریگولووا نے بتایا کہ اب کئی ماہرین کی مدد سے اس پینٹنگ کی مرمت اور بحالی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس پر قریب 10 ملین روبل یا ڈیڑھ لاکھ یورو تک لاگت آئے گی۔ اس فن پارے کی مرمت پر اٹھنے والی یہ لاگت فنون لطیفہ کی سرپرستی کی اپنی سوچ کی وجہ سے روس کا سبیربینک ادا کرے گا۔
شروع میں ماہرین کا خیال تھا کہ اس پینٹنگ کی مرمت پر قریب پانچ لاکھ روبل لاگت آئے گی لیکن بعد میں انہیں اندازہ ہوا کہ اس شاہکار کو دوبارہ اس کی اصلی حالت میں لانے پر کم از کم بھی ایک کروڑ روبل یا قریب 140,000 یورو خرچ ہوں گے۔
سیلفیرا تریگولووا نے کہا کہ ان کے میوزیم نے اب یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس پینٹنگ کے حفاظت کے لیے اب اسی عجائب گھر میں آئندہ اس کے اردگرد بلٹ پروف شیشہ لگا دیا جائے گا۔

ایلیا ریپِن کی اس شاہکار پینٹنگ کو نقصان پہنچائے جانے کے بعد روس میں اب یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ انتہائی قیمتی فن پاروں کا دیرپا تحفظ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ کئی ناقدین کی رائے میں کسی پینٹنگ پر حفاظتی یا بلٹ پروف شیشہ لگانے سے مصوری کے کسی بھی شاہکار کے ناظرین کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ ایسے کسی فن پارے سے اسی طرح لطف اندوز ہو سکیں، جیسے کسی حفاظتی شیشے کے بغیر۔
عظیم روسی مصور اِیلیا ریپِن کی جس شہرہ آفاق پینٹنگ کو اس واقعے میں نقصان پہنچایا گیا، وہ قدیم روس کے ایک ایسے زار ایوان کے بارے میں ہے، جو اپنی سفاکی کی وجہ سے ’خوفناک ایوان‘ کہلاتا تھا۔
اسی زارِ روس نے 16 نومبر 1581ء کو اپنے ہی بیٹے کو قتل بھی کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے اِیلیا ریپِن نے اس موضوع پر جو پینٹنگ بنائی تھی، اس کا عنوان ہے: ’’خوفناک ایوان اور اس کا بیٹا، سولہ نومبر 1581ء کے روز باپ کے ہاتھوں بیٹے کے قتل کے بعد۔‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here