خونی شیر۔۔۔۔ تحریر جاوید نور

0
1165

خالد کو گاوں دیکھنے کا بہت شوق تھا ، وہ اپنے دوست ثاقب کے ساتھ اس کے چچا کے گاؤں گیا۔وہ گاؤں ایک جنگل کے قریب واقع تھا سارا دن وہ گاؤں میں گھومتے پھرتے رہے اور شام کو تھک ہار کر سو گئے۔صبح صبح شور کی آواز سن کر خالد اور ثاقب کی آنکھ کھل گئی،گاؤں کے کی آدمی ایک سمت بھاگے جا رہے تھے۔

ثاقب نے ایک آدمی کو روک کر پوچھا کہ معاملہ کیا ہے۔

“ہمارے گاؤں کا ایک آدمی مارا گیا ہے”۔اس نے یہ بات ثاقب کو بتائی اور تیز تیز قدموں سے چل دیا۔
ثاقب اور خالد بھی دوڑے دوڑے اس جگہ پہنچے وہاں کئی لوگ اکھٹے ہوچکے تھے اور چارپائی پر لاش پڑی ہوئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔÷÷÷÷÷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاش کے جسم پر پنجوں کے نشان موجود تھے۔گردن سے بہت سا خون نکل کر زمین میں جذب ہو چکا تھا اور زمین پر کسی خونی درندے کے قدموں کے نشان بھی موجود تھے۔لاش کو کافی دور تک گھسیٹا گیا تھا اور لاش کئی جگہ سے کھائی ہوئی تھی۔

خونی درندے کی آمد سے جنگل کے آس پاس کے تمام گاؤں میں خوف ہراس پھیل گیا۔چند روز تک تو ہر طرف امن و امان رہا، تمام گاؤں والے ابھی اس صورتحال پر سوچ بچار کرہی رہے تھے کے خونی درندے سے کیسے نمٹا جائے کہ اچانک ایک رات ایک آدمی کی چیخ و پکار سنائی دی۔آدم خورشیر جانوروں کے باڑے میں حفاظت پر معمور دیہاتی کو گھسیٹتا ہوا جنگل کی طرف لے جا رہا تھا۔لوگ لاٹھیاں لیے اس سمت دوڑے جہاں سے چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔کچھ لمحوں بعد چیخیں سنائی دینا بند ہو گئیں،شاید وہ دیہاتی مرچکا تھا۔
خالد اور ثاقب گاؤں والوں کے ساتھ اسے تلاش کر رہے تھے کچھ دیر کے بعد اس کی لاش مل گئی۔ اُس کے جسم کا گوشت جگہ جگہ سے ادھڑا ہوا تھا،آدم خور شیر نے اس کا ایک بازو بھی چبا ڈالا تھا۔
“ہم اس آدم خور شیر کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔”خالد پرجوش آواز میں بولا۔
“ہاں بالکل آدم خور شیر کی وجہ سے پورے علاقے کے لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے،اس خونخوار درندے کو جلد از جلد انجام تک پہنچا دینا چاہیے۔”-ثاقب بولا
“نہیں ہم تمہیں اس کی اجازت نہیں دیں گے،تم دونوں ہمارے مہمان ہو ہم مہمانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا کسی بھی طرح مناسب نہیں سمجھتے-“گاؤں کے ایک بزرگ بولے۔
“آدم خور شیر کا خاتمہ تمہاری نہیں ہم گاؤں والوں کی ذمہ داری ہے۔جلد ہی سب درندے کی موت کی خوشخبری سنیں گے-“ایک نوجوان پر عزم لہجے میں بولا۔
“انسانوں کی جان بچانے سے بڑی نیکی اور کوئی نہیں،ہمیں اس نیک کام میں شریک ہونے کی اجازت دی جائے۔”
“ہم تمہارے جذبے کی قدر کرتے ہیں مگر تمہیں جانیں خطرے میں ڈالنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے،اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو ہم تمہارے والدین کو کیا منہ دکھائیں گے۔”گاؤں کے بزرگ بولے۔

“آدم خورشیر اب تک تین انسانوں کی جان لے چکا ہے اور ہم سب ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں،آپ نے اس درندے کے خاتمے کے لئے کیا سوچا اور کیا قدم اٹھایا۔”؟خالد نے جذباتی لہجے میں ان سے سوال کیا-
“دیکھو خونی درندے کا مقابلہ کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں،ہم نے حکومت تک یہ بات پہنچا دی ہے کہ کہیں سے اس جنگل میں ایک آدم خور شیر آگیا ہے ۔ہم نےچند ماہر شکاریوں سے خونی شیر کے خاتمے کی درخواست کی ہے،چند روز تک وہ یہاں پہنچ جائیں گے۔”بزرگ بولے

“لیکن جب تک شکاری حضرات یہاں پہنچیں گے نا جانے آدم خور شیر کتنے لوگوں کو اپنانوالابنا چکا ہوگا۔”ثاقب فکرمندی سے بولا
“لیکن صبر کے سوا ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔”
گاؤں کے بزرگ کچھ دیر آپس میں مشورہ کرتے رہے اور پھر ایک بزرگ ان سے بولے”ہم گاؤں والوں کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ جب تک خونی درندہ انجام کو نہیں پہنچ جاتا تم دونوں مہمانوں کا اس گاؤں میں ٹھہرنا ٹھیک نہیں۔”
ثاقب اور خالد مجبوراً شہر کی طرف روانہ ہوگئے۔

۔۔۔۔۔۔۔°°°∆∆∆∆°°°۔۔۔۔۔۔۔

خالد کے ابوبہت اچھے شکاری تھے،ایک بار خالد اور ثاقب ان کے ساتھ شکار پر گئے تھے۔دونوں کا خیال تھا کہ وہ انھیں ساتھ لے کر آدم خور شیر کا شکار کرنے کے لیے جنگل چلے جائیں گے۔گھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ خالد کی ابو کسی ضروری کام کے سلسلے میں ایک دور کے شہر گئے ہوئے ہیں اور کئی روز تک ان کی واپسی کی امید نہیں۔
دونوں نے وقت ضائع کئے بغیر ان کی بندوقیں لیں اور اپنے والدین سے اجازت لے کر جنگل کی جانب چل پڑے۔
ثاقب نے کسی ذریعے سے اپنے چچازاد بھائی شیراز کو اپنے جنگل میں جانے کی اطلاع دے دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔°°°°°°°°۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو وہ منصوبے کے مطابق چار مختلف درختوں پر مچان باندھ کر بیٹھ گئے۔انہوں نے ایک درخت کے نیچے بکری باندھ دی اور چوکس ہو کر بیٹھ گئے۔اُن کے ایک ہاتھ میں بھری ہوئی رائفلیں اور دوسرے ہاتھ میں بڑی بڑی طاقتور ٹارچیں تھیں۔موسم ابر آلود ہونے کی وجہ سے ہر طرف گھپ اندھیرا تھا اور خاموشی چھائی ہوئی تھی۔

ساری رات جاگ کر شیر کے صبر آزما انتظار نے اُن پر تھکاوٹ طاری کر دی تھی۔شیراز کا دوست اقبال بہت مایوس دکھائی دے رہا تھا۔خالد اور ثاقب نے اُسے سمجھایا کہ شیر جیسے خونخواراور چالاک جانور کے شکار کے لئے بہت صبر و تحمل،بہادری اور ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔
دونوں پُر امید تھے کہ وہ اس شیر کا شکار کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔یہ وہی علاقہ تھا جہاں کئی لوگ اُس شیر کا نوالہ بن چکے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔÷÷÷∆÷÷÷۔۔۔۔۔۔۔

اگلی رات وہ پھر انُہیں درختوں پر چوکس ہو کر بیٹھ گئے اور آدم خور شیر کا انتظار شروع کردیا۔آج بھی آسمان پر گہرے بادل چھائے ہوئے تھے اور ہر طرف گہرا اندھیرا تھا۔وقت تھا کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔اگر کوئی پرندہ بھی گھونسلے میں پھڑپھڑاتا تو وہ چونک جاتے،نیچے بندھی بکری بھی اندھیرے سے ڈر کر مِنمناتی۔

آدھی رات کے وقت جنگل میں انتہائی خاموشی چھا گئی،کوئی جانور دبے قدموں آہستہ آہستہ ان کے قریب آرہا تھا اور اُس کے قدموں کے نیچے آنے والے سوکھے پتوں سے آواز پیدا ہورہی تھی۔اچانک بکری نے زور زور سے منمنانا شروع کردیا اور وہ اُچھل اُچھل کررسی توڑ کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگی۔چاروں رائفل ہاتھ میں پکڑے تیار بیٹھے تھے۔وہ اِس انتظار میں تھے کہ شیر اطمینان سے بکری کو شکار کرنے کے لیے اُن کے انتہائی قریب آجائے تو وہ اُسے اپنی گولیوں کا نشانہ بنا لیں۔

اچانک شیر جھاڑیوں سے نمودار ہوا اور اقبال نے بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹارچ کی روشنی اُس پر ڈالی،شیر اُن کی موجودگی سے آگاہ ہو گیا اور غضب ناک ہو کر بکری کی بجائے روشن ٹارچ کی طرف لپکا،جو اقبال نے تھام رکھی تھی۔
شیر کی دھاڑ سے اقبال پر کپکپی طاری ہوگئی اور بندوق اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور نیچے گر پڑا۔یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آئی۔شیر اور اقبال میں بہت کم فاصلہ رہ گیا۔خالد نے اقبال کی جان بچانے کے لئے شیر پر گولی چلادی جو اس کی ران میں پیوست ہوگئی۔شیر زور سے دھاڑا۔

ثاقب نے بھی شیر پر ایک فائر کردیا مگر اس دوران شیر جھاڑیوں میں روپوش ہو چکا تھا۔وہ تینوں کچھ دیر بعد مچانوں سے نیچے اتر آئے۔اقبال خوف کے مارے بیہوش ہوچکا تھا وہ اُسے اٹھا کر مچان پر لے آئے اور ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگے۔کچھ دیر بعد وہ ہوش میں آگیا لیکن خوف کے مارے اب بھی اُس پر کپکپی طاری تھی،وہ چلانے لگا۔
“خدا کے لئے مجھے گھر بھجوا دو،میں شیر کاشکار نہیں بننا چاہتا۔”اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

“شیر زخمی ہوگیا ہے اور تم جانتے ہو کہ زخمی شیر بہت خطرناک ہوتا ہے،اگر ہم میں سے کوئی نیچے اترا تو وہ م سے انتقام لے سکتا ہے۔”ثاقب نے اسے سمجھایا-
“اگر گاؤں والوں کو یہ بات معلوم ہوگئی کہ تمہاری غلطی اور بزدلی کی وجہ سے شیر ہمارے ہاتھوں زخمی ہوچکا ہے تو وہ خوفزدہ ہوجائیں گے اور ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔”خالد نے اسے بتایا اور تینوں کافی دیر تک اُسے تسلی دیتے رہے۔

۔۔۔۔۔°°°°°^°°°°۔۔۔۔۔۔

اب کی بار اُنہوں نے ندی کے پاس ایک موزوں جگہ دیکھ کر درختوں پر مچان باندھ لیں اور زخمی شیر کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے۔وہ جانتے تھے کہ شیر اِس جنگل میں واقع اکلوتی ندی پر اپنی پیاس بجھانے ضرور آئے گا۔آج آسمان بادلوں سے بالکل صاف تھا اور ہر طرف چاندنی پھیلی ہوئی تھی۔

رات کے پچھلے پہر پھر وہی قدموں کی آہٹ سنائی دی،آدم خور شیر اپنا زخمی پچھلا پیر گھسیٹتے ہوئے ندی کی طرف بڑھ رہا تھا اور آہستہ آہستہ ان کے قریب ہوتا جا رہا تھا۔شیر ندی پر پہنچ کر پانی پینے لگا،شیر کو خطرے کی بو محسوس ہوئی،وہ تینوں خالد، ثاقب اور شیراز،شیر کا نشانہ لے چکے تھے کہ اچانک اقبال شیر کو دیکھ کر چیخ پڑا اور زور زور سے کانپنے لگا۔اِس سے پہلے کے آدم خور شیر دوڑ کر دوبارہ جھاڑیوں میں غائب ہو جاتا،تینوں نے بیک وقت اس پر گولیاں چلا دیں،کئی گولیاں اُس کے جسم میں پیوست ہوگئیں اور وہ لڑکھڑا کر گر پڑا۔کچھ دیر بعد شیر کا جسم ساکت ہو چکا تھا۔
وہ نیچے اتر آئے اور آدم خور شیر کی لاش کے قریب پہنچے۔اچانک شیر نے کروٹ لی اور اُن کی طرف لپکا۔
خالد نے اس کے سر کا نشانہ لے کر فائر کردیا اور گولی نے شیر کی کھوپڑی میں سوراخ کر دیا۔آدم خور شیر اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا۔انہوں نے شیر کی بھاری لاش کو درخت کی موٹی شاخ سے باندھا اور اُسے اٹھا کر گاؤں پہنچ گئے۔

گاؤں والوں نے جان خطرے میں ڈال کر آدم خور شیر مارنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔چند ماہر شکاری جن میں خالد کی ابو بھی شامل تھے،خونی شیر کا شکار کرنے کے لئے آج ہی گاؤں پہنچے تھے،مگر اُن کے بیٹے اور دوستوں نے پہلے ہی یہ کام سرانجام دے دیا تھا،خالد کی ابو اور دوسرے شکاریوں نے مردہ شیر کا معائنہ کیا۔
“شیر ہمیشہ اپنے دائیں پنجے سے شکار کرتا ہے اور اگر اس کا دایاں پنجہ زخمی ہوجائیں تو پھر وہ مجبوراً کمزوروں کو نشانہ بناکر اپنی بھوک مٹاتا ہے،آپ سب دیکھ سکتے ہیں کہ اس شیر کا دایاں پنجہ بھی کسی حادثے کے باعث ناکارہ ہو چکا ہے۔”خالد کے ابو نے انہیں بتایا۔تمام ماہر شکاریوں نے انہیں گلے لگا لیا اور کامیاب شکار پر مبارکباد دی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here