آلو کی دریافت کی دلچسپ کہانی

0
1623

آلو گوشت، چاٹ ہو یا سلاد، ہر کھانے اورپکوان میں آلو کی موجودگی اس کا لطف ہی دوبالا کردیتی ہے۔آلو کے چپس ت سبھی کو پسند ہوتے ہیں۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ اُگائی جانے والی سبزی ہے جو پورے سال کاشت ہوتی ہے۔

غذائیت کے معاملے میں آلو کتنا بھرپورہوتا ہے اس کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اگر پکے ہوئے آلوؤں کا صرف ایک کپ (173 گرام) لیا جائے تو اس میں 161 کیلوریز کے ساتھ ساتھ وٹامن بی 6، پوٹاشیم، تانبا (کاپر)، وٹامن سی، مینگنیز، فاسفورس، فائبر، وٹامن بی 3 اور پینٹوتھینک ایسڈ کی بھی وافرمقدارہوتی ہے۔ 29 فیصد کاربوہائیڈریٹس اور8.5 فیصد پروٹین ان کے علاوہ ہیں۔ آلو وٹامن، پروٹین اور معدنیات پر مشتمل پر مشتمل ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ آلو کی کاشت کبھی جنوبی امریکہ کے چند علاقوں تک محدود تھی۔ آج آلو دنیا بھر میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی خوراک بن گیا ہے۔

آلو کی دریافت کا سہرا ہسپانوی فاتحین کے سر ہے جنہوں نے پندرہویں صدی کے آخر میں جنوبی امریکہ کے ماؤنٹ اینڈیز میں آلو دریافت کیا۔ آلو پہلے پہل یورپ پہنچا جہاں سے وہ بھارت سے ہوتا ہوا چین پہنچا۔ حقیقت یہ ہے کہ آلو کی ایک اور جنگلی قسم آٹھ ہزار سال قبل پیرو میں مقبول خوراک تھی۔

آلو کی مقبولیت کی ایک اور وجہ جنگیں بھی تھیں۔ آلو کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ زیر زمین اگتا ہے۔ حملہ آوروں نے جب دشمن کی فصلوں کو تباہ کیا تو آلو ان کی دستبرد سے محفوظ رہا۔

دنیا میں اس وقت آلو کی کل پیداوار دو سو ترانوے ملین ٹن ہے۔ اور دنیا میں اس وقت آلو کی سب سے زیادہ یعنی ساٹھ ملین ٹن سالانہ کی پیداوار چین میں ہوتی ہے۔ بھارت دنیا میں آلو کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر ہے جہاں آلو کی سالانہ پیداوار پچیس ملین ٹن ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں آلو کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ اس کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ایشیا میں اس وقت آلو کا سالانہ استعمال فی کس چودہ کلوگرام ہے جو سولہ فیصد اضافہ ہے ظاہر کرتا ہے جبکہ لاطینی امریکہ میں آلو کا سالانہ استعمال فی کس چوبیس کلوگرام ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here