قومی اسمبلی کا اجلاس ورچوئل کی بجائے عملی طور پر بلایا جائے.کمیٹی

0
59

کورونا کے دوران قومی اسمبلی کے ورچوئل اجلاس سے متعلق کمیٹی کا اجلاس وزیر براے قومی فوڈ سیکیورٹی اور ریسرچ سید فخر امام کی صدارت میں ہوا ۔قومی اسمبلی میں پارلیمانی رہنماؤں نے ورچوئل کے بجائے قومی اسمبلی کا فیزیکل اجلاس منعقد کرنے کے آپشن کی توثیق کی۔ ان کا کہنا تھا کے پارلیمنٹ عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہے اور 25 کروڑ عوام کی امنگیں اس سے وابسطہ ھیں لہذا حکومت پر پارلیمانی نگرانی کے کردار کو جاری رکھنے کے لئے پارلیمان کو فعال بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے وبائی امراض کورونا وائرس کی موجودگی میں اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد میں اسپیکر قومی اسمبلی کو اپنی ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کے دوران ، پی پی پی پی کے پارلیمانی لیڈر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ورچئل اجلاس کے انعقاد کے لئے اسمبلی کے قواعد میں کوئی گنجاۂش نہیں ہے لہذا ، اہم قانون سازی کے علاوہ عوام سے متعلق وابستہ امور کو زیر بحث لانے کے لئے فیزیکل اجلاس کا بلایا جانا ضروری ھے۔ انہوں نے اراکین پارلیمنٹ اور پارلیمنٹری معاون عملہ کےاس وبا سے تحفظ کے لئے محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایس آؤ پیز کے تحت انتظامات کو یقینی بنانے کی تجویز پیش کی۔ اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنماوں خواجہ محمد آصف اور سردار ایاز صادق نے I.T کی ناکافی سہولیات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیزیکل سیشن کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ورچوئل سیشن پارلیمنٹ کے وقار اور تقدس اور شراکتی جمہوریت کے تشخس کے لیے نقصان دہ ثابت ھو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا ، ممبران کی موجودگی اور دیگر امور پر اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ محترمہ شاہدہ اختر علی ، مسٹر خالد حسین مگسی اور مولانا عبد الکبر چترالی نے محکمہ صحت کی جانب سے جاری ایس آو پیز پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ھوے اسمبلی کے فیزیکل سیشن کو بلانے کے تجویز کی تائید کی۔
وفاقی وزراء مخدوم شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے رہنما اصولوں پر عمل کرتے ہوے اسمبلی کا فیزیکل اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ممبران اور عملہ کی کورونا وباء سے بچاو کے ایس آؤ پیز پر عملدرآمد پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ موجودہ بحران کے دوران تمام سیاسی قوتیں ایک ہی صفحے پر ھیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمانی رہنماؤں کی پیش کردہ تجاویز قابل عمل ھیں اور ان تجاویز کی روشنی میں مزید طریق کار پر کام کیا جاسکتا ہے۔ پارلیمانی امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر نے کمیٹی کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور قائمہ کمیٹیوں کے پاس زیر التواء قانون سازی سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا اجلاس زیر التواء قانون سازی کے عمل میں تیزی لانے میں معاون ثابت ہوگا۔

چیئرمین نے کمیٹی کی سفارشات کو حتمی شکل دینے کے لئے آئندہ بدھ کو کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد فیزیکل اجلاس بلانے سے متعلق کمیٹی کی رپورٹ اسپیکر قومی اسمبلی کو پیش کی جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here