مستونگ خودکش حملہ:سراج رئیسانی سمیت 128 افراد شہید

0
912

مستونگ میں انتخابی ریلی پر خودکش حملے میں سراج رئیسانی سمیت 128 افراد شہید ہوگئے۔

صوبہ بلوچستان کے نگراں وزیر داخلہ عمر جان بنگلزئی کا کہنا ہے کہ ضلع مستونگ میں ایک انتخابی جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں صوبائی اسمبلی کے امیدوار سراج رئیسانی سمیت کم از کم 128 افراد شہید اور 122 سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔
ضلع مستونگ میں جمعہ کے روز ہونے والے خود کش حملہ ہلاکتوں کے حوالے سے بلوچستان میں سب سے بڑا حملہ ہے۔ اس سے پہلے جنوری 2013میں علمدار روڈ پر ہونے والے ان دو خود کش حملوں میں 106افراد ہلاک اور 169زخمی ہوئے تھے۔
وزیِر صحت فیض کاکڑ نے بتایا کہ جمعے کو اس حملے میں سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار نوابزادہ سراج رئیسانی کی کارنر میٹنگ کو نشانہ بنایا گیا۔

وزیر داخلہ عمر جان بنگلزئی نے کہاکہ مستونگ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 128ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 122سے زائد ہے۔
سراج رئیسانی کے بھائی اور سابق سینیٹر لشکری رئیسانی نے اپنے بھائی کی موت کی تصدیق کی ہے۔
ضلع مستونگ کے ڈپٹی کمشنر قائم خان لاشاری نے بتایا کہ یہ دھماکہ کوئٹہ سے تقریباً 35 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں کوئٹہ تفتان شاہراہ کے قریب واقع درینگڑھ کے علاقے میں ہوا۔
جب دھماکہ ہوا تو بلوچستان کے سابق وزیرِ اعلیٰ اسلم رئیسانی کے بھائی اور صوبائی اسمبلی کے حلقہ بی پی 35 سے امیدوار سراج رئیسانی ایک انتخابی جلسے میں شرکت کر رہے تھے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ نے بم ڈسپوزل سکواڈ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ یہ خود کش حملہ تھا جس میں آٹھ سے دس کلوگرام بال بیئرنگ استعمال کیے گئے جس کی وجہ سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

اسی حلقے میں اسلم رئیسانی اپنے بھائی کے مخالف آزاد حیثیت میں لڑ رہے تھے۔ سراج رئیسانی کو اس سے قبل بھی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ بچ گئے تھے البتہ ان کا بیٹا ہلاک ہو گیا تھا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here