اب کرکٹ گراؤنڈ لیڈز میں پسندیدہ کرکٹرز کی تصاویر دیکھ کر خوشی نہیں ہوتی.عرفان خان

0
345

بھارت کے ورسٹائل اداکارعرفان خان نے رواں برس مارچ کے آغاز میں انکشاف کیا تھا کہ انہیں خطرناک بیماری لاحق ہوگئی ہے۔

اداکار نے 16 مارچ کو مداحوں کو باخبر کیا تھا کہ ان میں نیورو اینڈوکرائن ٹیومر نامی مرض کی تشخیص ہوگئی ہے، جس کے علاج کے لیے وہ بیرون ملک جائیں گے۔

واضح رہے کہ نیورو اینڈوکرائن ٹیومر ایسی رسولی ہے جو کہ ہارمونل اور اعصابی نظام کے خلیات میں نمایاں ہوتی ہے۔

عام طور پر اس مرض میں ہارمون پیدا کرنے والے اعصابی خلیات میں ٹشوز کی نشوونما غیرمعمولی ہوجاتی ہے،عموماً آنتوں میں یہ مرض سامنے آتا ہے، مگر یہ مرض لبلبے، پھیپھڑوں اور جسم کے کسی بھی حصے میں بھی نمودار ہوسکتا ہے۔

ادکار نے اگرچہ بیماری کا نام بتایا تھا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ ان کا مرض کس اسٹیج پر پہنچ چکا ہے۔

عرفان خان ان دنوں علاج کے لیے لندن میں موجود ہیں، جہاں سے وہ پہلے بھی مداحوں سے دعاؤں کی گزارش کر چکے ہیں۔

تاہم اب عرفان خان نےپہلی بار اپنی بیماری اور ذہنی حالت سے متعلق کھل کر بات کی ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لاکھوں لوگوں کے لبوں پر مسکراہٹیں بکھیرنےوالا اداکار اس وقت کس حالت میں ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا سے خصوصی بات کرتے ہوئے عرفان خان نے واضح کیا کہ ان کی بیماری معمولی نہیں بلکہ بڑی ہے اور انہوں نے اب اس بیماری کو تسلیم کرکے اس کے آگے سر تسلیم خم کردیا ہے۔

اخبار میں شائع ان کے لمبے چوڑے خط میں انہوں نے ہسپتال میں اپنے علاج، لندن میں اپنی مصروفیات، اپنے خیالات اور ذہنی حالت سے متعلق بھی کھل کر بات کی۔

اداکار کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ مایوس نہیں، تاہم وہ سخت ذہنی اذیت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

عرفان خان کے مطابق وہ کچھ وقت پہلے تک زندگی کو ایسا محسوس کرتے تھے، جیسے وہ کسی تیز رفتار ٹرین میں سوار ہوں اور وہ تیزی سے خوابوں، خواہشات، خوشیوں اور منصوبوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم اب ایسا نہیں ہے۔

اداکار کے مطابق انہیں اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تیز رفتار ٹرین کے سفر کے دوران کسی نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں کہا ہو کہ ’بس اب آپ کا سفر ختم ہونے کو ہے، آپ کی منزل قریب ہے، اب آپ اس ٹرین سے اتر کر نیچے آئیں‘۔

عرفان خان کے مطابق انہیں یہ سوچ کر صدمہ پہنچتا ہے کہ یہ سب کچھ اچانک کیسے ہوگیا، تاہم اب انہوں نے کینسر جیسی بیماری کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے آگے سر تسلیم خم کرلیا ہے۔

انہوں نے اپنے خط میں لندن میں موجود اپنے ہسپتال کے ارد گرد کے ماحول اور جگہوں سے متعلق بھی بات کی۔

عرفان خان کے مطابق ہسپتال کے سامنے روڈ پار کرتے ہی، کرکٹ کا معروف گراؤنڈ لیڈز ہے، جہاں نامور اور ان کے پسندیدہ کرکٹرز کی تصاویر آویزاں ہیں، جنہیں دیکھ کر انہیں خوشی ہونی چاہیے تھی، تاہم اب ایسا نہیں ہوتا۔

اداکار نے اعتراف کیا کہ دنیا بھر سے لوگ ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں، ان کی صحت یابی کےلیے دعا کرتے ہیں۔

عرفان خان نے خط میں اپنی بیماری کو کڑا امتحان اور کھیل میں آجانے والی خرابی یا رکاوٹ قرار دیا، جسے ٹھیک کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ورسٹائل اداکار نے اعتراف کیا کہ ان میں بیماری کی تشخیص ہونے کے بعد انہیں تکلیف سے گزرنا پڑا، اب وہ خوف اور درد ایک ساتھ محسوس کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ عرفان خان اس وقت لندن میں علاج کی غرض سے موجود ہیں، رواں برس اپریل میں یہ خبریں آئی تھیں کہ عرفان خان کا مرض آخری اسٹیج پر ہے اور ڈاکٹرز نے انہیں زندہ رہنے کا انتہائی کم وقت بتایا ہے۔

تاہم بعد ازاں اداکار کے ترجمان نے ایسی خبروں کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ عرفان خان کی بیماری سے متعلق غلط افواہیں نہ پھیلائیں جائیں۔

علاج کی غرض سے لندن منتقل ہونے کے بعد عرفان خان نے انسٹاگرام پر جذباتی پوسٹ کی تھی، انہوں نے اپنی پوسٹ میں آسٹرین ناول نگار اور شاعر رائنر ماریہ رلکے کی انتہائی جذباتی نظم لکھی کہ’خدا ہم سب سے بات کرتا ہے، جیسا کہ وہ ہم سب کو بناتا ہے، پھر رات کی تاریکی میں خاموشی سے وہ ہمارے ساتھ چلتا ہے، اور ہم اس سفر میں کچھ الفاظ آہستہ آہستہ سن لیتے ہیں‘۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here