پینے کو بھی پانی نہ ملا تو کیا کریں گے؟

0
699

پاکستان کا شمار ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے دنیا کے 10 سرِ فہرست ملکوں میں ہوتا ہے اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر اب بھی موسمیاتی تغیر و تبدل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے درست سمت میں ٹھوس اقدام نہ کیے تو پہلے سے خطرناک صورتِ حال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔

منگل کو دنیا کے دیگر ممالک کے طرح پاکستان میں بھی ماحولیات کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کے موقع پر ماہرینِ ماحولیات نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ملک میں اگر پانی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور فعال انتظامات نہ کیے گئے تو آنے والے برسوں میں جہاں پاکستان جیسے زرعی ملک کی زراعت بری طرح متاثر ہو گی وہیں لوگوں کو پینے کے لیے دستیاب پانی بھی عنقا ہو جائے گا۔

ماہرینِ ماحولیات کے نزدیک موسمیاتی تبدیلی کے علاوہ بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کے غیر محتاط استعمال سے ملک میں پانی کی قلت کے اثرات واضح طور پر سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کے دریاؤں میں گزشتہ برسوں کی نسبت پانی کا بہاؤ تقریباً 60 فی صد تک کم رہا۔

پانی کی کمی کے شکار ملک میں معقول تعداد میں آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان ہر سال آبی بہاؤ کا نوے فی صد ضائع کر دیتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال ہم خشک سالی کی طرف جا رہے ہیں۔ ڈیمز اور دریاؤں میں پانی کم ہے۔ اگر ضروری انتظامات نہ کیے تو آئندہ 25، 30 سالوں میں صورتِ حال زیادہ خراب ہو جائے گی۔۔۔ لوگوں کو اگر پینے کے لیے بھی پانی دستیاب نہیں ہوگا تو پھر لوگوں کا وہاں رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here