جمال خاشقجی قتل کیس: سزائے موت کا فیصلہ تبدیل

0
23

سعودی عرب نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث پانچ افراد کی سزائے موت کو تبدیل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 8 افراد کو 7 سے 20 سال کے درمیان قید کی سزا سنا دی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق عدالت نے قتل کے الزام میں پانچ افراد کو 20 سال قید کی سزا سنائی جبکہ تین افراد کو 7 سے 10سال کے درمیان قید کی سزا سنائی
سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق عدالت نے 5 افراد کو 20 سال قید کی سزا سنائی جبکہ 3 افراد کو 7 سے 10سال جیل کی سزا سنائی گئی۔

عدالت کا حتمی فیصلہ مئی میں جمال خاشقجی کے بیٹوں کی جانب سے ملزمان کو معافی دیے جانے کے بعد سامنے آیا جس کے بعد اب ان افراد کو سزائے موت تو نہیں دی جائے گی البتہ انہیں قید میں رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی ایک فوجداری عدالت نے گزشتہ سال دسمبر میں جمال خاشقجی کے قتل کے جرم میں پانچ افراد کو مجرم قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا تھا اور مقدمے میں ملوث ہونے کے جرم میں تین افراد کو مجموعی طور پر 24 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ان پانچ افراد کو مجموعی طور پر 100 سال اور بقیہ کو 24 سال کی قید کی سزا دی گئی ہے اور اس طرح آٹھ افراد کو مجموعی طور پر 124 سال سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

سعودی حکام نے قتل کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام میں 21 شہریوں کو گرفتار کیا تھا تاہم پبلک پراسیکیوٹر نے اپنی تحقیقات کے بعد ان میں سے 11 کے خلاف فرد جرم عائد کی تھی البتہ بعدازاں عدالت نے ان میں سے بھی 3 افراد کو بے قصور قرار دے کر بری کردیا تھا۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق پیر کو جاری کردہ حتمی فیصلے میں مذکورہ مجرموں کی سزاؤں میں تخفیف کی گئی ہے یا ان میں ردوبدل کیا گیا ہے۔

استغاثہ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس کا نفاذ کیا جانا چاہیے۔

خبر رساں ایجنسی العربیہ کے مطابق سعودی عرب کے قانون کے تحت متاثرہ خاندان کو قاتلوں کو معاف کرنے یا ان کی سزا میں تخفیف دینے کا حق حاصل ہے، اس معافی نامے کی توثیق کی صورت میں قاتلوں کا قصاص میں سرقلم نہیں کیا جاتا تاہم اس کے باوجود قاتلوں کو ان کے جرم کے ارتکاب کی سزا دی جاتی ہے اور انہیں پبلک قانون کے تحت سزا کا حکم جاری کیا جاتا ہے۔

2 اکتوبر 2018 کو استنبول میں سعودی قونصل خانے کا دورہ کرنے والے واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جمال خاشقجی لاپتا ہو گئے تھے اور بعدازاں ترک حکام نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں سعودی عرب کے قونصل خانے میں قتل کردیا گیا تھا۔

صحافی کی لاش نہیں مل سکی تھی اور رپورٹس کے مطابق ان کی لاش کے ٹکڑے کر کے نالے میں بہا دیا گیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here