شہید فلسطینی بیٹی رزان النجار سپرد خاک، جنازے میں عوام کا سمندر

0
1341

فلسطین کے علاقے غزہ میں زخمیوں کی مرم پٹی کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر وطن کی حرمت پر قربان ہونے والی جواں سال فلسطینی نرس رزان النجارکو سپرد خاک کردیا گیا۔ فلسطینی میڈیا رپورٹس کے مطابق رزان النجارکی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے غزہ بھر سے عوام کا سمندر امڈ آیا۔ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں نے النجار کے جنازے میں شرکت کی۔ اس موقع پر خواتین کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔شہیدہ کا جنازہ اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف عوامی مظاہرے میں تبدیل ہوگیا۔ اس موقع پر جنازے کے شرکا نے صہیونی ریاست کی دہشت گردی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور النجار کے قتل ناحق کا بدلہ لینے کا مطالبہ کیا۔فلسطینی وزارت صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ شام اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں خان یونس کے مقام پر زخمیوں کو مرہم پٹی کرنے والی ایک نوجوان فلسطینی دو شیزہ کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنا کر گولی ماری جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئی۔22 سالہ رازان نجار کوجمعہ کی شام مشرقی خان یونس میں اس وقت نشانہ بنا کر گولیاں ماری گئیں جب وہ مظاہروں کے دوران زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی مرہم پٹی میں مصروف تھیں۔دوسری جانب شہید فلسطینی بیٹی کے اہل خانہ اس واقعے پرصدمے سے نڈھال ہیں۔جمعہ کی شام فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مشرقی غزہ میں حق واپسی کے لیے نکالے جانے والے مظاہروں پر فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں ایک لڑکی شہید اور 100 سے زاید مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 22 سالہ نرس رزان اشرف النجار اس وقت شہید ہوئیں جب جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں زخمی مظاہرین کو طبی امداد فراہم کررہی تھیں۔ادھر سوشل میڈیا پر شہید رزان کی محاذ جنگ پر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی سرگرمیوں کی تصاویر وائرل ہوئیں جنہیں بہت زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے۔ ان تصاویر میں شہیدہ کی ماں کو صدمے سے نڈھال دیکھا جا سکتا ہے جو اپنی بیٹی کے خون آلود کپڑوں کو سینے لگائے صہیونیوں کا ماتم کررہی ہے۔ ماں کی آہ بکا کے رقت آمیز مناظرکو سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے شیئر کیا ہے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جمعہ کے روز پانچ طبی رضاکاروں کو فائرنگ کرکے زخمی کیا۔ ان میں رزان النجار بھی شامل تھیں جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔اشرف القدرہ نے بتایا کہ جمعہ کے روز مشرقی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ سے 100 سے زاید شہری زخمی ہوئے۔ 40 فلسطینی براہ راست گولیاں لگنے اور باقی آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔تیس مارچ 2018 سے غزہ میں جاری تحریک حق واپسی کے دوران اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں اب تک 119 فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here