گوہر نایاب—- بچوں کےپرانے ادیبوں کی تلاش کا سلسلہ.تحریر و ترتیب: نذیر انبالوی

0
299

دھرنے میں آہستہ آہستہ حاضرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔اسٹیج پر مرکزی قائدین موجود ہیں ۔ کچھ دیر بعد تقاریر کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ،حاضرین کا جوش و خروش دیدنی ہے ۔ آپ کو دھرنے کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ آگاہ کرتے رہیں گے۔ کیمرہ مین لیاقت علی کے ساتھ جاوید نور ،جیو نیوز اسلام آباد۔
ممکن ہے یہ آواز آپ کے کانوں میں پڑی ہو ، آپ نے سانولی رنگت والے ایک نوجوان کو ہاتھ میں جیو نیوز کا مائیک پکڑے تیزی سے بولتے ہوئے سکرین پر دیکھا ہو گا۔جی ہاں، یہ جاوید نور ہیں ،ماضی میں بچوں کے بہترین کہانی نویس، بلوچستان میں جن نوجوان اہل قلم نے ماضی میں بچوں کے ادب کو فروغ دینے کے لیے کام کیا ان میں جاوید نور کا نام نمایاں ہے۔جاوید نور کو جو بات سب سے ممتاز کرتی ہے کہ وہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بچوں کے واحد ادیب ہیں جنھیں 1994 ء میں بہترین ادب تخلیق کرنے پر دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد کی طرف سے ایوارڈ سے نواز گیا۔جاوید نور 26۔جولائی 1972ء کو وادی ء کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔انھوں نے دوران تعلیم ہم نصابی سرگرمیوں کے ملکی اور صوبائی سطح کے متعدد مقابلوں میں شرکت کر کے بے شمار انعامات حاصل کئے۔ایم۔اے ابلاغیات کے علاوہ جاوید نور نے وکالت کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔
جاوید نور کی بچوں کے ادب سے وابستگی 1987میں ہوئی۔ ان کی پہلی تحریر روزنامہ ’’جنگ‘‘ کے بچوں کے صفحات میں شائع ہوئی۔اس کے بعد بچوں کا مشرق(کوئٹہ)،بچوں کا اخبار، انوکھی کہانیاں میں کہانیوں کا ایک وسیع سلسلہ شروع ہو گیا اور 1997تک ان کی 300سے زائد کہانیاں مختلف رسائل میں شائع ہوئیں۔وہ ماہنامہ ’’شہباز‘‘ کوئٹہ کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔نوجوان ادیبوں کی ملک گیر تنظیم ’’پاکستان ینگ رائٹرز فورم‘‘ بلوچستان کے صدر رہے اور اظہر عباس کے ساتھ مل کر نوجوان اہل قلم کے لیے متعدد پروگرام احسن طریقے سے منعقد کروائے جن سے بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے درجنوں نوجوان مستفید ہو کرادب اطفال کا حصہ بنے۔
جاوید نور نے ماہنامہ ’’بچوں کا اخبار‘‘ میں بچوں کے حقوق کے عالمی معاہدے پر شق وار کہانیوں پا مشتمل ایک سلسلہ بھی تحریر کیا جسے ملک بھر میں بے حد پسند کیا گیا۔یہ ایک منفرد سلسلہ تھا جس میں کہانیوں کے ذریعے بچوں کے حقوق اجاگر کیے گئے تھے۔بچوں کا اخبار کی بندش کے ساتھ ہی یہ مفید سلسلہ بھی بند ہو گیا۔
جاوید نور کا ایک خاصہ ہے کہ ان کے ہاں موضوعات میں تنوع پایا جاتا ہے۔ہلکے پھلے انداز میں بڑی سے بڑی بات قارئین تک آسانی سے پہنچانے پر دسترس رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیاں طویل مگر سادہ اور سہل زبان سے مرصع ہوتی ہیں۔طواکت کے باوجود ان کی کہانوں میں دلچسپی کا عنصر ابتدا سے آخر تک قائم رہتا ہے۔جاوید نور کو ان کی کہانی’’ نرالی دنیا‘‘ بہت پسند ہے جب کہ میں ان کی کہانی’’فشن‘‘ سے متاثر ہوں۔یہ اپنے موضوع کے اعتبار سے بہترین کہانی ہے۔ پوری کہانی اسی سایے کے گرد گھومتی ہے۔’’فشن‘‘ کا ابتدائیہ ملاحظہ کیجئے:
’’انسانوں کی دنیا کی طرح سایوں کی دنیا کے ایک دیس میں ایک سایہ فشن رہتا تھا۔وہ بہت سست اور کاہل تھا۔ہر وقت پڑا اونگھتا رہتا۔اس بار تو اس نے اپنی ڈیوٹی سے تین ماہ کی چھٹیاں لے لیں اور گھر میں آرام کرتے اور سوتے ہوئے دن گزار دئیے۔آخر اس کی ساری چھٹیاں ختم ہو گئیں اب تو مجبوراً اُسے کام پر جانا ہی تھا‘‘۔
جاوید نور کی نمائندہ کہانیوں میں جہنم لائن، نرالی دنیا، ننھاتارا، سفید گھوڑا اور خونی شیر شامل ہیں۔ جون 1995ء میں ان کی کہانیوں کا اولین مجموعہ ’’نرالی دنیا‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔1994ء میں دعوۃ اکیڈمی شعبہ بچوں کا ادب نے انھیں ’’بہترین نوجوان اہل قلم ایوارڈ ‘‘ سے نوازا۔
2002ء سے بچوں کا یہ ادیب ملک کے معروف چینل (جیو نیوز) سے وابستہ ہے۔ کوئٹہ میں پانچ سال صحافتی خدمات انجام دینے کے بعد آج کل جاوید نور اسلام آباد میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
جاوید نور۔۔۔۔!!!
بچوں کا ادب آپ کا منٹظر ہے۔ننھے قارئیں آپ کی کہانیاں پڑھنا چاہتے ہیں۔مانا کہ آپ مصروف ہیں مگر بچوں کے ادب کے لیے وقت نکالیے ۔یقیناً آپ میری اس بات سے اختلاف نہیں کریں گے کہ بچوں کے ادب نے ہی آپ کی آبیاری کی اور آپ اس مقام تک پہنچے۔ جیو نیوز کے عملی رپوورٹر کی حیثیت سے آپ نے جو کچھ دیکھا اسے لفظوں کا روپ دے کر کہانیوں کی شکل میں بچوں کے سامنے پیش کریں۔وہ دن میرے لیے یقیناً حقیقی خوشی کا باعث ہو گا۔جب بچوں کے کسی رسالے میں آپ کی تازہ کہانی شائع ہوگی۔ بس اب آپ میری یہ خواہش پوری کر ہی دیں لوٹ آئیے ،بچوں کے ادب میں میرے الفاظ کو دوھرائیے: ’’میرے چار سو کہانیاں ہی کہانیاں ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ کہانیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔کہانیوں کی خوشی دیدنی ہے۔ان میں سے ایک کہانی میری بھی ہے۔میری تازہ کہانی پڑھئے اور اپنی رائے دیجئے۔
بہت سی کہانیوں کے ساتھ،کہانی کار جاوید نور، بچوں کا ادب اسلام آباد‘‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here