سکھ اور ماہ رمضان

0
1715

صوبہ خیبر پختونخوا کی سکھ برادری نے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ اس مرتبہ بھی یہ کمیونٹی رمضان میں نہ صرف کھلے عام کھانے پینے سے گریز کر رہی ہے بلکہ روزہ داروں کے لیے افطاری کا اہتمام بھی کر رہی ہے۔
پاکستانی صوبے خیبر پختونخوا میں سکھ برادری اس برس بھی پشاور کے مختلف علاقوں میں افطاری کے لیے باقاعدہ کیمپ لگا رہی ہے۔ سب سے زیادہ رش لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں لگائے گئے ایک کیمپ میں دکھنے میں آ رہا ہے۔ اس رش کی وجہ یہ بھی ہے کہ صوبے کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ علاج کی غرض سے اس ہسپتال کا رخ کرتے ہیں اور مریضوں کے ساتھ ان کے رشتہ دار بھی ہوتے ہیں۔
سکھ برداری رمضان میں بالخصوص ان تیمار داروں کی خدمت بھی کر رہی ہے۔ ان کے لیے افطاری کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس افطار کیمپ میں البتہ مریضوں کے رشتہ داروں کے علاوہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے بعض ملازمین ، بازار میں کام کی غرض سے آنے والے مسافر اور غریب افراد بھی افطاری کر سکتے ہیں۔

افطاری میں شربت،کھجور ،پکوڑے، سموسے اور پھل جبکہ بعد میں کھانا بھی دیا جاتا ہے۔ افطاری کے انتظامات کے موقع پر موجود مقامی فلاحی تنظیم سے وابستہ گور پال سنگھ کا کہنا تھا کہ’’مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر افطاری کا انتظام کیا جا رہا ہے اور اس مہینے ہم خود بھی کھلے عام کھانے پینے سے گریز کرتے ہیں۔‘‘
سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ افطاری کے لیے کھانے پینے کی اشیاء خرید کر اسے مسلمانوں کے ہاتھوں سے پکوایا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کی شک کی گنجائش باقی نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ نیک جذبے کے تحت کیا جاتا ہے تاکہ مسافروں اور بے بس لوگوں کی مدد کی جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here