مساجد ۔نمازیوں کے درمیان 6فٹ فاصلہ رکھنا ضروری ہوگا۔ علما کا اتفاق

0
508

رمضان المبارک کے دوران باجماعت نماز اورتروایح سے متعلق 20 نکاتی حکمت عملی پراتفاق ہوگیا۔
صدر عارف علوی کے زیر صدارت اسلام آبادمیں علمائے کرام کا مشاورتی اجلاس میں کوروناوائرس کی وباء کے پیش نظر ماہ رمضان المبارک کے دوران باجماعت نماز اور تروایح کی مشروط اجازت دینے پراتفاق کیا گیا۔

کوورنا وائرس کوپھیلنے سے روکنے کیلئے علمائے کرام اور آزاد کشمیر سمیت چاروں صوبائی حکومتوں کے اتفاق رائے سے 20 نکاتی حکمت عملی پرمبنی احتیاطی تدابیر وضع کی گئی ہیں۔

صدر عارف علوی نے حکمت عملی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت یہ محسوس کرے کہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد نہیں ہورہا یا کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے تو اسے رمضان کیلئے آج تیار کی گئی سفارشات پر نظر ثانی کرنے کا اختیار ہوگا ۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین نہ بچھانے کا فیصلہ کیاگیا ہے نمازیں فرش پر ادا کی جائیںگی اور نمازیوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ ضروری ہوگا ۔

مساجد آنے سے پہلے لوگ گھر سے وضو کرکے اور بیس سکینڈ تک ہاتھ دھو کر اورچہرے پرماسک لگا کر آئیں۔

نماز کے بعد انہیں سماجی فاصلہ برقراررکھنا ہوگا اور ہجوم بنانے سے رکنا ہوگا۔

رمضان المبارک کے دوران مساجد میں افطار اور سحری کے دوران کوئی اجتماعات نہیں ہوںگے۔

یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ مساجد کے فرش کو کلورین والے پانی سے دھویا جائیگا۔

نماز تراویح کے حوالے سے فیصلہ کیاگیا ہے کہ یہ سڑکوں اور فٹ پاتھوں پرنہیں بلکہ مساجد کے احاطے میں ادا کی جائے گی۔

یہ بھی اتفاق کیاگیا کہ صحن کی حامل مساجد میں نماز کیلئے ہال کے بجائے صحن ہی استعمال کئے جائیں گے۔

صدر نے کہا کہ بچوں، 50سال سے زیادہ عمر والے افراد اور زکام بخار اور کھانسی سمیت کسی بھی مرض میں مبتلا افراد نماز کیلئے مساجد میں نہیں آئیںگے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں میں بھی تراویح کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ لوگ گھروں میں ہی اعتکاف بیٹھیں۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ مساجد کی انتظامیہ ان حفاظتی تدابیر پر عملدرآمد کیلئے کمیٹیاں بھی قائم کریگی۔

انہوں نے کہا کہ مساجد کی انتظامیہ اور امام ضلعی وصوبائی حکام سے رابطے میں رہیں گے اور ان سے مکمل تعاون کریں گے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here