دل والے سائیکل پر 100 کلو میٹر دور سےدلہنیا لے آئے

0
343

بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث ریاست اتر پردیش میں 23 سالہ دلہا سائیکل پر 100 کلو میٹر دور واقع دلہن کے گھر اکیلا بارات لے کر پہنچ گیا۔

دلہا واپسی پر اپنی دلہن کے ہمراہ دوبارہ 100 کلومیٹر کا سفر سائیکل پر ہی طے کر کے اپنے گھر واپس پہنچا۔

گھر واپسی کے لیے سائیکل پر کیے گئے سفر کے بارے میں دلہا کا کہنا تھا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ان کی ٹانگوں میں اتنی درد ہوگی۔

بھارتی نشریاتی ادارے ‘انڈیا ٹوڈے’ کے مطابق ضلع حمیر پور کے گاؤں پاتھیا کے رہائشی کلکو پراجپاتی نے انتظامیہ کو بارات لے جانے کے لیے خصوصی اجازت طلب کی تھی۔

لیکن اجازت نہ ملنے پر کلکو پراجپاتی شادی کی طے شدہ تاریخ پر سائیکل پر ہی دلہن کے گھر پہنچ گیا۔

دہم کلاس تک تعلیم حاصل کرنے والے کسان پراجپاتی کا کہنا تھا کہ انہیں مقامی پولیس کی طرف سے بارات لے جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ جس کے باعث ان کے پاس اور کوئی حل نہیں تھا۔

پراجپاتی نے بھارتی خبر رساں ایجنسی ‘پی ٹی آئی’ کو بتایا کہ لڑکی والے بھی شادی کارڈز چھپوا چکے تھے اور طے کردہ تاریخ پر شادی کی تیاریاں بھی مکمل تھیں۔

پراجپاتی کے والد کا کہنا تھا کہ شادی کی تاریخ چار پانچ ماہ پہلے طے کی گئی تھی۔ لڑکی کے گھر والوں نے فون کر کے کہا کہ شادی کے انتظامات کر لیے گئے ہیں۔

کلکو کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پاس موٹر سائیکل بھی موجود ہے۔ لیکن لائسنس نہیں ہے جب کہ سائیکل چلانا اُن کے لیے قدرے آسان ہے۔

اس موقع پر دلہن کے خاندان والوں کی طرف سے صرف ضروری رسومات ادا کی گئیں۔ جبکہ بقیہ تقریبات لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد ادا کی جائیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کرونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے منہ پر رومال باندھا اور جینز، ٹی شرٹ پہن کر صبح سویرے روانہ ہوگئے۔

اس موقع پر دلہن کے خاندان والوں کی طرف سے صرف ضروری رسومات کی گئیں۔ باقی تقریبات لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پراجپاتی کا کہنا تھا کہ وہ شادی کے کارڈز دوبارہ چھپوائیں گے اور شادی کی بقیہ تقریبات میں ان تمام لوگوں کو بلایا جائے گا۔ جو انہیں اپنی شادیوں پر بلاتے رہے ہیں۔

گھر واپسی کے لیے سائیکل پر کیے گئے سفر کے بارے میں پراجپاتی کا کہنا تھا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کی ٹانگوں میں اتنی درد ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی ٹانگوں میں اتنی شدید درد تھی کہ انہیں درد کش دوا لینا پڑی۔ تاہم انہیں خوشی ہے کہ دونوں خاندان خوش ہیں کہ شادی ہوگئی۔

پراجپاتی کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کی والدہ علیل ہیں اور گھر میں کھانا پکانے والا کوئی نہیں۔ اس لیے انہوں نے لاک ڈاؤن ختم ہونے کا انتظار نہیں کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here