پاکستان کی درجہ بندی میں کمی، بھارت 58 درجے بہتر

0
18

پاکستان کی صلاحیت اور کاروباری جدت طرازی میں 2020 میں کامیابی میں کمی واقع ہوئی ہے اور ملک کی عالمی انوویشن انڈیکس (جی آئی آئی) پر درجہ بندی سال 2019 کے 104 کے مقابلے میں بڑھ کر 2020 میں 107 ہوگئی۔

ایک رپورٹ کے مطابق جی آئی آئی کو عالمی انٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن، آئی این ایس ای اے ڈی بزنس اسکول اور کورنیل یونیورسٹی نے مرتب کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ کی تمیز کے حوالے سے پاکستان کی درجہ پابندی 2019 میں 102 سے بڑھ کر 2020 میں 116 ہوگئی کیونکہ سال کے دوران ملک میں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت بھی کمزور ہوئی۔

اس سال کے دوران ملک کے ہیومن کیپیٹل اینڈ ریسرچ میں بھی کمی واقع ہوئی اور رپورٹ میں جی ڈی پی میں تعلیم پر ہونے والے اخراجات کے میں بڑی کمزوریوں کو اجاگر کیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ زیر غور سال کے دوران ملک کا مجموعی انفراسٹرکچر بھی کمزور ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ لاجسٹکس کی کارکردگی اور مجموعی سرمائے کی تشکیل کے علاوہ انوویشن میں انفارمیشن ٹکنالوجی کی خدمات تک رسائی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

دوسری جانب اعلیٰ ٹیکنالوجی کی درآمدات کے ذریعے کاروباری نفاست کے لحاظ سے پاکستان کی پوزیشن بہتر ہوکر 2019 میں 96 سے 2020 میں 87 پر آگئی۔

اسمدت کے دوران انفارمیشن ٹکنالوجی کی کُل برآمدات بڑھیں جب کہ موبائل ایپ بنانے جیسے تخلیقی نتائج میں بھی بہتری آئی ہے۔

جنوبی ایشین ممالک میں، پاکستان صرف بنگلہ دیش سے بہتر رہا جس کی درجہ بندی 116 بتائی گئی جبکہ بھارت (48)، نیپال (95)، سری لنکا (101) درجے پر رہا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here