نواز شریف اور مریم کی آمد وگرفتاری کی کہانی

0
310

سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے لاہور ایئرپورٹ سے حراست میں لے کر اسلام آباد پہنچایا جہاں سے دونوں کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

دونوں رہنما نجی ایئرلائن اتحاد کی فلائٹ نمبر ای وائے 243 کے ذریعے لندن سے براستہ ابوظہبی، لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچے، تاہم پرواز ابوظہبی میں 2 گھنٹے تاخیر کے بعد لاہور کے لیے روانہ ہوئی۔

پہلے یہ پرواز شام سوا 6 بجے لاہور پہنچنی تھی، تاہم تاخیر کے باعث نواز شریف اور مریم نواز تقریباً پونے 9 بجے لاہور پہنچے۔

طیارے کے اترتے ہی 3 خواتین اہلکاروں سمیت نیب کی 16 رکنی ٹیم نے قانونی کارروائی شروع کردی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے 3 اہلکار بھی جہاز کے اندر پہنچے اور نواز شریف اور مریم نواز کے پاسپورٹس تحویل میں لے کر ان کی امیگریشن جہاز کے اندر ہی کر لی گئی۔

تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد دونوں کو سیکیورٹی اہلکاروں کے حصار میں حراست میں لے لیا گیا، جس کے بعد خصوصی طیارہ انہیں لے کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔

خصوصی چارٹرڈ طیارہ تقریباً 45 منٹ کی پرواز کے بعد نواز شریف اور مریم نواز کو لے کر اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچا، جہاں ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی بھی موجود تھے۔

چیف کمشنر اسلام آباد نے سہالہ پولیس ٹریننگ کالج ریسٹ ہاؤس کو اگلے احکامات تک سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے مطابق دونوں مجرمان کو سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا جانا تھا۔

تاہم کچھ دیر بعد چیف کمشنر نے دوسرا نوٹی فکیشن جاری کیا جس کے مطابق صرف مریم نواز کو سہالہ ریسٹ ہاؤس منتقل کیا جاتا، جس کے باہر اسلام آباد پولیس کے اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔

فیصلے میں کچھ دیر بعد ایک بار پھر تبدیلی کی گئی اور نواز شریف اور مریم نواز دونوں کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے الگ، الگ اسکواڈ کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، جہاں دونوں کا مجسٹریٹ اور سینئر پولیس حکام کی موجودگی میں طبی معائنہ بھی کیا گیا۔

دوسری جانب نیب پراسیکیوشن ٹیم نے احتساب عدالت سے نواز شریف اور مریم نواز کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دینے کی استدعا کی۔

نیب کے ایڈیشنل ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے مجرمان کو عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔

احتساب عدالت نے نتیجتاً مجسٹریٹ وسیم احمد کو وارنٹ جیل حکام کے حوالے کرنے کے لیے مقرر کیا۔

اس موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود میڈیا نمائندوں کو عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here