فاٹا اصلاحات بل:قبائلی علاقے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا حصہ بن جائیں گے.

0
1540
Pakistani tribal members of the Loya Jirga (Grand Assembly) from across the country attend a meeting in Peshawar on July 4, 2011. The members gathered to discuss the reform on local and tribal issues as well as the US drone attacks in Pakistan. AFP PHOTO/A. MAJEED

قومی اسمبلی نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے 31ویں آئینی ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا. آئینی ترمیم کے حق میں 229 ووٹ آئے جبکہ ایک رکن نے اس کی مخالف کی۔ ترمیم کی مخالفت کرنے والوں میں جمیعت علمائے اسلام ف اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے ارکان شامل تھے۔پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان بھی طویل عرصے بعد ایوان میں آئے۔

بل کی منظوری کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے لیے قانون سازی آسان کام نہیں تھا لیکن تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر اتفاق رائے کر کے آئینی ترمیم کی منظوری دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اسمبلی 31 مئی کو مدت مکمل کرے گی اور اُس کے 60 دن کے اندر اندر انتخابات ہونے چاہیے۔ ’پاکستان الیکشن میں تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔‘

قومی اسمبلی سے خطاب میں تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان نے کہا کہ جو لوگ فاٹا کے انضمام کی مخالفت کرتے ہیں اُن کے پاس میں موجودہ نظام کے متبادل کوئی اور نظام نہیں ہے۔

بل کے مسودے میں کیا ہے؟
قومی اسمبلی میں پیش کیے جانے والے فاٹا اصلاحات بل کے مطابق آئین کی شق 246 میں ترمیم کرتے ہوئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو خیبر پختونخوا جبکہ صوبوں کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (پاٹا) کو متعلقہ صوبوں یعنی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا حصہ بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فاٹا کو آئندہ دس سال میں اضافی فنڈز دینے کی بھی توثیق کی گئی
خیبر پختونخوا کا حصہ بننے والے فاٹا کے علاقوں میں مہمند ایجنسی، باجوڑ ایجنسی، کرم ، شمالی اور جنوبی وزیرستان، خیبر اور اورکزئی ایجنسیوں کے علاوہ ایف آر پشاور، ایف آر بنوں، ایف آر کوہاٹ، ایف آر لکی مروت، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان اور ایف آر ٹانک کے علاقے شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا کا حصہ بننے والا ’پاٹا‘ علاقوں میں چترال، دیر، سوات، کوہستان، مالاکنڈ اور مانسہرہ سے منسلک قبائلی علاقہ شامل ہیں۔

بلوچستان کا حصہ بننے والے پاٹا علاقوں میں ضلع ژوب، دکی تحصیل کے علاوہ باقی ضلع لورالائی، ضلع چاغی کی تحصیل دالبندین، ضلع سبی کے مری اور بگٹی قبائلی علاقے شامل ہیں۔

آئینی ترمیم کے ذریعے 100 برس سے زیادہ عرصے تک قبائلی علاقہ جات میں نافذ رہنے والے قانون فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن یا ایف سی آر کو بالاخر ختم کر دیا گیا ہے۔

اس قانون میں سزا یافتہ شخص کو ایپل کا حق نہ ہونے وجہ سے انسانی حقوق سے متصادم بھی قرار دیا جاتا رہا ہے
فاٹا اصلاحات بل کے مطابق قبائلی علاقہ جات کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد قومی اسمبلی کی نشستوں کی تعداد 342 سے کم کر کے 336 کر دی جائے گی۔

انضمام کے بعد قومی اسمبلی میں قبائلی علاقوں کی 12 نشستیں ختم کر دی جائیں گی جبکہ اس کی جگہ خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کی چھ نشستیں بڑھ جائیں گی۔ تاہم اس تبدیلی کا اثر 2018 کے عام انتخابات پر نہیں ہو گا۔

انضمام کے بعد قومی اسمبلی میں خیبر پختونخوا کی نشستوں کی تعداد 45 ہو جائے گی جبکہ اس کے علاوہ بلوچستان کی 16، پنجاب کی 141، سندھ کی 61 اور وفاقی دارالحکومت کی تین نشستیں ہوں گی۔

ترمیم کے مطابق 2018 کے عام انتخابات کے مطابق فاٹا سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی اپنی مدت پوری کریں گے۔

فاٹا سے سینیٹ کی آٹھ نشستیں بھی ختم کر دی گئی ہیں جس کے بعد اب سینیٹ کے ارکان کی تعداد 96 رہ جائے گی تاہم موجودہ سینیٹ میں فاٹا کے منتخب ارکان اپنی مدت پوری کریں گے۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قبائلی علاقہ جات کے لیے 16 عام، خواتین کی چار اور غیر مسلموں کی ایک نشست رکھی گئی ہے جن کے لیے انتخاب 2018 کے عام انتخابات کے ایک سال کے اندر اندر ہوگا۔

اس اضافہ کے بعد خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی عام نشستوں کی کل تعداد 115، خواتین کی نشستوں کی تعداد 26، اور غیر مسلموں کی نشستوں کی تعداد چار ہو جائے گی اور یوں یہ اسمبلی کل 145 ارکان پر مشتمل ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here