بچوں کیلئے لکھی گئی 31کتابوں کی تقریب رونمائی

لاہور(لٹریری رپورٹر) پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بچوں کے لئے لکھی گئی کہانیوں پر مشتمل 31 کتابوں کی ایک ساتھ تقریب رونمائی اتوار 15 مئی صبح 9 بجے پلاک قذافی اسٹیڈیم میں منعقد ہو گی جس میں اردو ادب سے وابستہ شخصیات کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر سے بچوں کے ادیب شرکت کریں گے۔تفصیلات کے مطابق لاہور کے معروف اشاعتی ادارے رابعہ بک ہائوس نے بچوں کے لکھاریوں کے نمائندہ فورم کاروان ادب اطفال کی تحریک پر بچوں کے ادیبوں کی اکتیس کتب ایک ساتھ شائع کی ہیں جسے ایک ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں بچوں کے ادب کو ہمیشہ سے پس پشت ڈالا گیا مگر دو سال قبل کاروان ادب کے پلیٹ فارم سے شروع ہونے والی تحریک نے پاکستان کے لکھاریوں میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ گذشتہ برس لاہور میں منعقد ہونے والی قومی کاروان ادب کانفرنس میں شرکت کے موقع پر معروف پبلشر ابوالحسن طارق نے بچوں کے ادب کو فروغ دینے کی اس تحریک کا کھل کر ساتھ دینے کا اعلان کیا اور ایک سال کے اندر اندر ہی انہوں نے اپنے اس دعویٰ کورابعہ پبلشر کے تحت 31کتابوں کی اشاعت کے ذریعے سچ کر دکھایا۔ دلچسپ امر یہ ہے کی کہانیوں پر مشتمل ان کتب کی اشاعت میں معروف لکھاریوں کے ساتھ ساتھ ایسے گمنام لکھاریوں کی کتب بھی شائع کی گئی ہیں جو صلاحیتوں سے مالامال ہونے کے باوجود گوشہ گمنامی میں دفن تھے۔ اس تاریخی کارنامے میں کاروان ادب کے بانی اراکین ندیم اختر، کاشف بشیر کاشف اور اظہر عباس کے ساتھ ساتھ نوجوان ادیب عبدالصمد مظفرالمعروف پھول بھائی کی کاوشوں کا بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے کاروان ادب کے لکھاریوں اور رابعہ پبلشر کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔ کل 15 مئی بروز اتوار کو ہونے والی تقریب رونمائی کے مہمانان گرامی بچوں کے معروف شاعر جناب احمد حاطب صدیقی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد شعبہ بچوں کا ادب کے سابق سربراہ ڈاکٹر افتخار کھوکھر، معروف ادیب و استاد اختر عباس کے علاوہ معروف لکھاریوں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔ دریں اثناء اس تاریخی موقع پر سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کتابوں کے مصنفین، پبلشر اور کاروان ادب کے اراکین کو اپنے گھر دعوت پر بھی بلا لیا ہے۔۔ تقریب رونمائی کے حوالے سے خبرناک کے کارٹونسٹ عمران سہیل بوبی نے بھی ایک خوبصورت کارٹون تخلیق کیا جسے سوشل میڈیا پر ادبی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں عالمی کمی،سعودی عرب کی پیٹرول پر انحصار کم کرنے کی حکمت عملی

سعودی عرب کی کابینہ نے ملکی معیشت کے تیل سے ہونے والی آمدن پر بڑی حد تک انحصار کو کم کرنے کی کوشش کے منصوبے

کی منظوری دے دی ہے۔
اس منصوبے کے تحت ملکی معیشت کو متنوع بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
٭تیل کی قیمتوں میں کمی، سعودی عرب قرضے کے قریب
سعودی عرب میں حکومتی آمدن کا تقریباً 80 فیصد حصہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر مشتمل ہے اور گذشتہ برس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے سعودی معیشت متاثر ہوئی ہے۔
کابینہ کی جانب سے جس وژن 2030 کی منظوری دی گئی ہے اس کے تحت تیل کی سرکاری کمپنی ارامکو کے پانچ فیصد سے کم saudiحصص بھی فروخت کیے جائیں گے۔
ٹی وی پر قوم سے خطاب میں ملک کے نائب ولی عہد محمد بن سلمان نے بتایا ہے کہ ارامکو کی قدر ڈھائی ٹریلیئن ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
محمد بن سلمان کا کہنا تھا کہ ارامکو کے حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم دو ٹریلیئن ڈالر کے خودمختار مالیاتی فنڈ کی تشکیل کے لیے استعمال ہوگی۔
وژن 2030 کے بارے میں مزید معلومات پیر کی شام تک جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
گذشتہ ہفتے امریکی چینل بلوم برگ سے بات کرتے ہوئے شہزادہ محمد نے کہا تھا کہ ملک میں اشیائے تعیش اور زیادہ چینی والے مشروبات پر بھی ٹیکس لگایا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ چند دن قبل یہ اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ سعودی عرب تیل سے حاصل ہونے والی آمدن میں کمی کے باعث بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ دس ارب ڈالر قرضے کا معاہدہ کرنے کے قریب ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تیل برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک سعودی عرب آٹھ ارب تک کا قرضہ لینا چاہ رہا تھا لیکن بڑھتی طلب کی وجہ سے وزیر خزانہ کو یہ رقم بڑھانا پڑی۔
سنہ 1990 میں کویت پر عراق کے حملے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی مارکیٹ کا رخ کیا ہے۔

دنیا کا پر امن اور خوبصورت ملک ،جہاں شہزادے اور شہزادی جاتے ہیں

 چین اور انڈیا کے درمیان ایک چھوٹا سا ملک بھوٹان ہے جو ان دنوں اہم مہمانوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ انگلینڈ کے ڈیوک ولیئم اور اُن کی اہلیہ ڈچس آف کیمبرج شہزادی کیٹ انڈیا کے بعد اب بھوٹان آئی ہیں۔

ہمالیہ کے دامن میں موجود اس چھوٹی سی ریاست سے باہر کی دنیا بہت کم واقف ہے۔ یہ ملک الگ تھلگ ہے اور الگ تھلگ رہنا چاہتا ہے۔ اس نے اپنی ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی صدیوں تک دنیا سے رابطہ منقطع کیا رکھا۔ حتیٰ کہ اس نے 90 کی دہائی کے بعد انٹرنیٹ اور ٹی وی پر پابندی ختم کی۔

 ساٹھ کی دہائی تک بھوٹان میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد پر پابندی تھی، اب بھی حکام باہر سے آنے والوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔بھوٹان اور برطانیہ کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ تاہم چیزیں اب تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں۔

لیکن اب دارالحکومت تھمپو میں سمارٹ فونز اور کیراوکی بار عام ہیں۔ ملک میں نوجوان آبادی کی اکثریت ہے، جن کی سوشل میڈیا تک رسائی ہے۔

 

بہت سے چیزوں میں بھوٹان دنیا میں ٹرینڈ کرتا رہا ہے، جیسے 1990 سے بھوٹان میں پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی عائد ہے اور تمباکو بھی تقریباً غیر قانونی ہی ہے۔

قانون کے تحت ملک کی 60 فیصد زمین پر جنگلات ہونے چاہییں۔ قدرتی حسن سے مالا مال اور حسین ثقافت کے باوجود دنیا کے سیاحوں کے لیے بھوٹان نے اپنے دروازے دنیا کے لیے جان بوجھ کر بند رکھے ہیں۔

بھوٹان میں حکومت نے ایک سال میں آنے والے سیاحوں کی حد مقرر کی ہے اور جنوبی ایشیائی ملک کے علاوہ باہر سے آنے والے سیاحوں کو یومیہ 250 ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ ملک کی آمدن کا بڑا حصہ سیاحت سے آنے والے آمدن پر مشتمل ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ایسا ماحولیات اور ثقافت پر سیاحت کے باعث پڑنے والے اثرات کم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور ان اقدامات سے علاقے کے منفرد تاثر کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

 

لیکن ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور اسی لیے سیاحت کو مزید فروغ دینے کے لیے آواز اُٹھائی جا رہی ہے۔

بھوٹان میں خام ملکی پیداوار کے بجائے خام ملکی خوشحالی ناپی جاتی ہے۔ جس کا مطلب ہے عوام کی دماغی خوشحالی اور مادی اشیا میں توازن۔

بھوٹان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں جی ڈی یعنی خام ملکی پیداوار پی کی بجائے گروس نیشنل ہیپی نیس یعنی خام قومی مسرت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے اور ملک میں خام ملکی مسرت کا مرکز قائم ہے جو خوشی کے اعدادوشمار اکٹھا کرتا ہے۔ بھوٹان کے بہت سے افراد اپنی زندگیوں سے مطمئن ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ یہ نظریہ کچھ زیادہ ہی استعمال ہو رہا ہے اور اس کی وجہ سے بدعنوانی اور پست معیارِ زندگی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

ملک میں بے روزگاری کی شرح سات فیصد سے زیادہ ہے اور خام ملکی پیدوار کے لحاظ سے بھوٹان کا شمار دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔

لیکن ایسا بھی نہیں کہ بھوٹان میں سب کچھ ہرا ہرا ہے۔

 

ملک میں غلامی پر کہیں جا کر 1958 میں پابندی لگی، جس کے بعد بدھسٹ بھوٹانی ثقافت کی حمایت میں منظور کی گئی پالیسیوں کے بعد 1990 میں نیپالی اقلیت کے ساتھ جھڑپیں پھوٹ پڑیں۔

اس کے بعد سے ہزاروں افراد نے نیپال میں مہاجرین کے کیمپوں میں پناہ لی اور ابھی تک اُن کی حیثیت متنازع ہے۔

دنیا میں وگوں کے لئے سب سے زیادہ بال کون سا ملک دیتا ہے۔؟

ہر سhairال لاکھوں کی تعداد میں لوگ جنوبی انڈیا کے دو مندروں کی جانب اس اُمید پر سفر کرتے ہیں کہ ان کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت مل جائے گا۔ لیکن ہر معجزہ ایک قربانی کا طالب ہوتا ہے اور یاتری اپنے بالوں کی قربانی دیتے ہیں۔
گوپالا اماّ اپنے خاندان کی بُری قسمت بدلنے کے لیے بیتاب ہیں۔ وہ چینّئی کے مضامات میں واقع علاقے پرم بر کی ایک تنگ گلی میں ایک کمرے کے اپنے مکان کو کھونے کے خوف میں مبتلا ہیں۔

ہالی وڈ سے لے کر برطانیہ اور برطانیہ سے لے کر جنوبی افریقہ تک، بہت بڑے پیمانے پر استعمال ہونے والے انسانی بال بھارتیوں کے ہوتے ہیں کیوں کہ اُن کی ساخت کاکیشیئن نسل سے تعلق رکھتی جنھیں بال بنانے والی صنعت میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔
بھارت کے لیے یہ صنعت ڈھائی کروڑ ڈالر سالانہ کی آمدن پر مشتمل ہے۔ ایک کلوگرام بالوں کے 130 ڈالر ملتے ہیں اور زیادہ لمبے بال جیسے کہ اماّ کے بال 160 گرام ہیں، تو اِن کی کُل قیمت 20 ڈالر کے قریب ہے۔
بال منڈوانے کی رسم یا جب مذہبی مقاصد کے لیے کی جائے تو اسے مُونڈن کہا جاتا ہے۔ یہ ایک قدیم ہندو داستان کے ساتھ منسوب ہے۔

تمل ناڈو اور آندھرا پردیش کی جنوبی ریاستیں ایسی ہیں جہاں دومندروں سے ہر ماہ ٹنوں کے حساب سے بال جمع کیے جاتے ہیں۔
 ۔ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں سفید لباس میں ملبوس حجام ایک قطار میں یاتریوں کے ہمراہ اکڑوں بیٹھے ہوتے ہیں۔
حجام بال کاٹ کرنیلے رنگ کے مقفل ڈرم میں رکھ دیتاہے۔
بالوں کے تاجر ہر ہفتے اِن ڈرموں کو جمع کرتے ہیں۔ اِن تاجروں کے بہت سے مندروں سے رابطے ہیں جبکہ دوسرے مندر نیلامی کرتے ہیں اور جو سب سے زیادہ بولی لگاتا ہے بال اسے فروخت کر دیے جاتے ہیں۔
تروپتی مندر وہ جگہ ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ بال اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ یہ دنیا میں سب سے زیادہ زیارت کیے جانے والے مذہبی مقامات میں سے ایک بھی ہے جس میں ہر روز تقریباً ایک لاکھ یاتری آتے ہیں۔ جبکہ سالانہ اس سے 30 لاکھ ڈالر کمائے جاتے ہیں۔

بال منڈوانے کا یہ عمل بہت تیزی سے ہوتا ہے اور وہ جو دیوتاؤں کو اپنے بالوں کا تحفہ پیش کر رہے ہوتے ہیں، اپنے سر کو حجاموں کے ہاتھوں میں دے کر بیٹھ جاتے ہیں
یہ رقم خدمتِ خلق کے کاموں، سکولوں اور مندروں کی دیکھ بھال میں استعمال ہوتی ہے۔

سندر بن میں کتنے شیر باقی بچے ۔؟

lion ئئئئئئئ

بنگلہ دیش میں محکمۂ جنگلات کے حکام نے کہا ہے کہ سندربن کے جنگلات میں پائے جانے والے شیروں کی تعداد میں ماضی کے مقابلے میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق اس وقت بنگلہ دیش کی حدود میں سندربن کا جو علاقہ آتا ہے وہاں صرف 106 شیر باقی بچے ہیں جبکہ بھارتی حدود میں یہ تعداد صرف 74 ہے۔

دس برس قبل اس جنگل میں 440 شیروں کی گنتی کی گئی تھی اور ماہرین کا کہنا ہے کہ تعداد میں اتنی کمی کی وجہ کھالوں اور دیگر اعضا کے حصول کے لیے ان شیروں کا منظم انداز میں غیرقانونی شکار ہے۔

تاہم حکام نے کہا ہے کہ تعداد میں کمی کی وجہ سروے کے لیے بہتر تکنیک کا استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق حالیہ سروے میں شیروں کے پنجوں کے نشانات گننے کی بجائے جنگل میں نصب کیے گئے کیمروں سے مدد لی گئی جس سے کم تعداد تو سامنے آئی لیکن یہ اعدادوشمار بالکل درست ہیں۔

بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے جنگلی حیات کے تحفظ کے ذمہ دار اہلکار تپن کمار دے کا کہنا ے کہ شیر شماری کا عمل ایک برس تک جاری رہنے کے بعد رواں برس اپریل میں مکمل ہوا اور اس دوران شیروں کی تعداد 83 سے 130 کے درمیان رہی جس کی اوسط 106 بنتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے تپن کمار کا کہنا تھا کہ ’یہ زیادہ درست ہندسہ ہے‘۔


حالیہ سروے میں شیروں کے پنجوں کے نشانات گننے کی بجائے جنگل میں نصب کیے گئے کیمروں سے مدد لی گئی

اس سے پہلے بھارتی سندربن میں 74 شیروں کی گنتی کی جا چکی ہے۔ بھارت میں ان جنگلات کا تقریباً 40 فیصد حصہ واقع ہے۔

خیال رہے کہ سندربن کے جنگلات دس ہزار کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور انھیں رائل بنگال ٹائیگرز کا گھر قرار دیا جاتا ہے۔

یہ جنگلات معدومی کے خطرے سے دوچار ان شیروں کی دنیا میں آخری قدرتی پناہ گاہ تصور کیے جاتے ہیں۔

بھارت میں مجموعی طور ہر 2200 سے زیادہ رائل بنگال ٹائیگرز ہیں جبکہ اس کے علاوہ ان کی کچھ تعداد بنگلہ دیش، نیپال، بھوٹان، چین اور میانمار میں بھی پائی جاتی ہے۔

بنگلہ دیش کی جہانگیر نگر یونیورسٹی میں زولوجی کے استاد اور شیروں کے ماہر پروفیسر منیرالخان کا کہنا ہے کہ نیا سروے ان کے خدشات کی تصدیق کرتا ہے۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگ رہا ہے کہ شیروں کی آبادی میں کمی ہمارے خدشات سے کہیں زیادہ ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو شیروں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ اس کمی کی وجہ غیرقانونی شکار اور جنگلات کے کناروں پر تعمیراتی و ترقیاتی سرگرمیاں ہیں۔

خیال رہے کہ جنگلی حیات کے تحفظ کا عالمی فنڈ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ شیر جنگلات میں معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں اور جہاں سنہ 1900 میں ان کی تعداد ایک لاکھ تھی وہیں اب یہ کم ہو کر 3200 رہ گئی ہے۔

انڈیا کے شیروں کی آبادی بڑھانے کا نیا منصوبہ

LionCubs

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں شیروں کی آبادی والے 13 ایشیائی ممالک کے ایک وزارتی اجلاس کے دوران شیروں کی منتقلی پر اصولی اتفاق کیا گیا ہے۔

شیروں کو ان کی زیادہ آبادی والے ممالک سے ایسے ممالک میں منتقل کیا جائے گا جہاں ان کی نسل معدوم ہونے کے خطرے کا شکار ہے۔

قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک صدی کے عرصے میں پہلی بار دنیا بھر میں شیروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

  
 قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ایک صدی کے عرصے میں پہلی بار دنیا بھر میں شیروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے

سنہ 2010 میں شیروں کی عالمی آبادی 3200 تھی جو اب بڑھ کر تقریباً 3900 ہوگئی ہے۔

شیروں کی عالمی آبادی کا تقریباً نصف، یعنی 2226 شیر انڈیا میں پائے جاتے ہیں۔

ایک بین الاقوامی مہم کے تحت سنہ 2022 تک ان بڑی بلّیوں (شیروں) کی عالمی آبادی دگنی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انڈیا کے شیروں کے علاوہ روس کے شیروں کو بھی روس سے قزاکستان منتقل کیا جا سکتا ہے جہاں یہ بڑی بلّیاں بالکل معدوم ہو چکی ہیں۔

شیروں کو معدوم ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے قائم ایک بین الحکومتی تنظیم گلوبل ٹائیگر فورم کے سیکریٹری جنرل راجیش گوپال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شیروں کی آبادی بڑھانے کے لیے ان کی جگہ کی منتقلی سب سے موثر قدم ہو گا۔

بھارت کے شیروں کے علاوہ روس کے امُر شیروں کو بھی روس سے قزاکستان منتقل کیا جاسکتا ہے جہاں یہ بڑی بلّیاں بالکل معدوم ہوچکی ہیں

’شیروں کی منتقلی سے قبل ان کے لیے طے شدہ ٹھکانوں کو تیار کیا جائے گا اور انھیں ممکنہ خطرات سے بچانے کے لیے کام کیا جائے گا۔‘

انڈیا کے وزیر ماحولیات پرکاش جاؤڈیکر نے بی بی سی کوبتایا کہ شیروں کے تحفظ کے لیےحکومت ’تمام ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔‘

گلوبل ٹائیگر فورم کے چیف ایگزیکٹیو کیشو ورما کا کہنا ہے کہ شیروں کو انڈیا کے اندر ہی دوسری جگہ پہ بھی منتقل کیاجاسکتا ہے۔

’مثال کے طور پر کوربیٹ نیشنل پارک میں 260 شیر ہیں جبکہ سو مربع کلومیٹر پہ 20 شیروں کی گنجائش رکھی جاتی ہے جبکہ راجا جی جیسے نیشنل پارکوں میں محض دو یا تین شیرنیاں پائی جاتی ہیں۔‘

افغانستان کی بلوچستان میں مداخلت جاری رہی تو تعلقات خراب ہوں گے

pakafghanborder

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیرِ داخلہ میرسرفراز بگٹی نے اس الزام کو ایک مرتبہ پھر دہرایا ہے کہ انڈیا اور افغانستان پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔

صوبائی وزیرِ داخلہ نے جمعہ کو افغانستان سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع نوشکی سے برآمد ہونے والا اسلح میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

جو اسلحہ میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا اس میں 25 مارٹر گولے، چار راکٹ بم ، دس پیکٹ بارود اور مختلف اسلحہ کی ہزاروں گولیاں شامل تھیں۔

اس موقع پر میڈیا کو دکھانے کے لیے وردیاں بھی رکھی گئی تھیں جو وزیر داخلہ کے مطابق افغان فوج کے زیر استعمال ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اسلحہ این ڈی ایس کی جانب سے بلوچ علحیدگی پسندوں کے لیے لایا جا رہا تھا ۔

سرفراز بگٹی نے کہا ’افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’ہم ایک بار پھر افغان حکام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے کیونکہ اگر وہ اپنی سر زمین اس طرح استعمال ہونے دیں گے تو اس کا انھیں بھی نقصان ہوگا۔‘

صوبائی وزیرِ داخلہ نے الزام عائد کیا کہ افغان خفیہ ایجنسی ’این ڈی ایس‘ انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ساتھ مل کر پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے علاوہ بلوچستان میں حالات کو خراب کرنا چاہتی ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ این ڈی ایس ہمارے شہریوں کے قتل و غارت میں شامل ہو رہی ہے جو کہ ناقابل برداشت ہے ۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر اس طرح کی کاروائیاں نہیں رکیں تو دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہوں گے جو کہ خطے کے لیے مناسب نہیں ہے۔